.

برلن مذاکرات:لیبی وزیرخارجہ طرفین کے گماشتہ جنگجوؤں کےانخلا سے متعلق پُرامید!

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

لیبیا کی وزیرخارجہ نجلہ المنقوش نے کہا ہے کہ جرمن دارالحکومت برلن میں امن مذاکرات کے نئے دور میں نمایاں پیش رفت ہوئی ہے۔انھوں نے اس امید کا اظہار کیا ہے کہ اب آیندہ دنوں میں طرفین کی حمایت میں شمالی افریقا میں واقع خانہ جنگی کا شکارملک میں موجود گماشتہ جنگجو اور کرائے کے فوجی واپس چلے جائیں گے۔

برلن مذاکرات میں عالمی طاقتوں کے علاوہ لیبیامیں متحارب فریقوں کی حمایت کرنے والے ممالک نے حصہ لیا ہے۔ان مذاکرات کے بعد نجلہ المنقوش نے نیوزکانفرنس میں کہا کہ ’’کرائے کے فوجیوں کے حوالے سے اہم پیش رفت ہوئی ہے۔ ہم امید کرتے ہیں کہ آنے والے دنوں میں دونوں اطراف سے کرائے کے فوجی اور جنگجو واپس چلے جائیں گے اور میں سمجھتی ہوں کہ یہ ایک حوصلہ افزا اقدام ہوگا۔‘‘

اقوام متحدہ کے مطابق اس وقت لیبیا میں 20 ہزار سے زیادہ غیر ملکی گماشتہ جنگجو اورفوجی اہلکار موجود ہیں۔ان میں ترکی، روس، سوڈان اور چاڈ (تشاد) سے تعلق رکھنے والے کرائے کے فوجی شامل ہیں۔لیبیا کے مشرق میں جنرل خلیفہ حفتر کے اتحادی دھڑے کی حمایت میں روس سے تعلق رکھنے والے کرائے کے فوجی موجود ہیں۔

اس کے برعکس ترکی کا کہنا ہے کہ اس نے طرابلس میں قائم قومی حکومت کے ساتھ دو طرفہ سمجھوتے کے تحت اپنے فوجی لیبیا میں بھیجے تھے،وہ اس سمجھوتے کے تحت ہی اس ملک میں تعینات ہیں۔اس کا ایک مطلب یہ ہے کہ وہ غیرملکی فوجیوں کے انخلا کی درخواست سے متاثر نہیں ہوں گے۔

اس خدشے کا بھی اظہار کیا جارہا ہے کہ لیبیا سے نکلنے کے بعد مسلح گروہ خطے کے دوسرے ملکوں کا رُخ کرسکتے ہیں۔اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کے بعض رکن ممالک بھی اس خدشے کا اظہار کرچکے ہیں۔انھوں نے لیبیا کے پڑوسی ملک چاڈ میں حالیہ عدم استحکام کا حوالہ دیا ہے۔وہاں گذشتہ چندماہ سے جاری شورش کے دوران میں ملک کے صدر ادریس دیبی ہلاک ہو گئے تھے۔