.

سعودی عرب اپنی دفاعی صنعت میں امریکا کی سرمایہ کاری کے لیے کوشاں

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

سعودی عرب کی دفاعی صنعت کی اتھارٹی ملکی معیشت کو متنوع بنانے کے ویژن کے حصے کے طور پرامریکا سے سرمایہ کاری اور سرمایہ کاروں کو راغب کرنے کے لیے کوشاں ہے۔

سعودی عرب کی جنرل اتھارٹی برائے ملٹری انڈسٹریز(جامی)نے امریکا،سعودی بزنس کونسل کے اشتراک سے بدھ کو ایک ویبی نار کا اہتمام کیا ہے۔اس میں امریکا کی بعض کمپنیوں کے سربراہان نے بھی حصہ لیا ہے۔اس میں سعودی عرب کی دفاع اور سکیورٹی کے شعبے سے متعلق حکمت عملی پرروشنی ڈالی گئی ہے۔

اس ویبی نار کے کلیدی مقرر جامی کے گورنر احمد الاوہالی تھے۔انھوں نے سعودی عرب کی دفاعی حکمت عملی میں تحقیق اور ٹیکنالوجی کے کردار پر روشنی ڈالی۔

واضح رہے کہ امریکا ابتدائی برسوں ہی سے سعودی عرب کی دفاعی شعبہ میں مدد کررہا ہے اور اس کو فوجی آلات اور سازوسامان مہیّا کرتا رہا ہے۔

2017ء میں امریکا کے سابق صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے سعودی عرب کو سات ارب ڈالرمالیت کا اسلحہ اور فوجی سازوسامان فروخت کرنے کی ایک ڈیل پر دست خط کیے تھے۔

اس کے تحت امریکا نے سعودی عرب کو یمن سے ایران کے حمایت یافتہ حوثی شیعہ باغیوں کے ڈرون اور بیلسٹک میزائلوں کے حملوں سے بچانے کے لیے گائیڈڈ فضائی دفاعی ہتھیار مہیا کیے ہیں اور سعودی عرب میں امریکا نے میزائل شکن دفاعی نظام نصب کیا ہے۔اس کی مدد سے حوثی ملیشیا کے یمن سے داغے گئے بیلسٹک میزائلوں اور بارودی ڈرونز کو ناکارہ بنایا جارہا ہے۔

احمد الاوہالی نے فروری میں ابوظبی میں منعقدہ ایک کانفرنس میں بتایا تھا کہ سعودی عرب آیندہ ایک عشرے کے دوران میں اپنی دفاعی صنعت پر 20 ڈالر کی سرمایہ کاری کرے گا۔اس کے تحت سعودی عرب ہی میں بیشتر دفاعی سازوسامان بنایا جائے گا اور دفاعی صنعت کو ملکی رنگ دیا جائے گا۔

انھوں نے مزید بتایا تھا کہ حالیہ برسوں کے دوران میں دفاعی شعبے میں مقامی اخراجات چار فی صد سے بڑھ کر آٹھ فی صد ہوگئے ہیں۔

یادرہےکہ سعودی عرب کی دفاعی صنعت کی اتھارٹی 2017ء میں قائم کی گئی تھی۔اس کا مقصد مملکت کی فوجی صنعت کو ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان کے پیش کردہ ویژن 2030ء کے مطابق ترقی دینا ہے۔اس ویژن کے تحت سعودی معیشت کو متنوع بنانے کے لیے مختلف منصوبوں پر عمل درآمد کیا جارہا ہے۔