.

نیٹو فورسز کے انخلا کے بعد افغانستان میں خانہ جنگی کا خطرہ ہے:روسی وزیر دفاع

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

روس کے وزیر دفاع سیرگئی شویگو نے شمالی اوقیانوس تنظیم "نیٹو" کی افواج کے افغانستان سے انخلا کے بعد خانہ جنگی کے خطرے کی وارننگ دی ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ آنے والے دونوں میں افغانستان کی صورتحال خراب ہوسکتی ہے۔ نیٹو اتحاد بیس سال تک افغانستان میں رہا مگر ملک میں امن قائم کرنے میں نا کام رہا ہے۔ نیٹو افغانستان میں ٹھوس ریاستی ادارے قائم نہیں کرسکا۔

شوئیگو نے مزید کہا کہ یہ توقع کے بڑے پیمانے پر کی جارہی ہے کہ نیٹو افواج کے انخلا کے بعد افغانستان میں خانہ جنگی دوبارہ شروع ہوجائے گی۔ نیٹو کے بعد افغانستان میں لوگوں کے معیار زندگی کے مسلسل خراب ہونے ، بڑے پیمانے پر نقل مکانی اور پڑوسی ممالک میں انتہا پسندی کے پھیلاؤ کے خدشات موجود ہیں۔

روسی وزیر دفاع نے زور دیا کہ روس نے افغانستان میں نیٹو افواج کی موجودگی کے دوران بار بار افغانستان میں مربوط مربوط پالیسی اپنانے کا مطالبہ کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ نیٹو اتحاد سے روسیوں کی نفرت اس سے کہیں زیادہ ہے۔ آج افغانستان کے حالات کو قابو میں رکھنے کے لیے موثر اقدامات کی ضرورت ہے۔

شویگو نے اس مسئلے پر پیشرفت کے لیے شنگھائی تعاون تنظیم کی صلاحیتوں کو استعمال کرنے کی ضرورت پر زور دیا۔

یہ قابل ذکر ہے کہ طالبان تحریک نے منگل کے روز افغانستان اور تاجکستان کو ملانے والی شاہراہ کا کنٹرول سنبھالنے کا اعلان کیا تھا۔