.

رواں سال میں اب تک 95 افراد کو ایران میں فنا کے گھاٹ اتارا جا چکا ہے: یو این رپورٹ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

اقوام متحدہ میں انسانی حقوق کی ہائی کمشنر میشیل باچیلے کا کہنا ہے کہ ایران میں سول سوسائٹی، وکلاء اور انسانی حقوق کے لئے کام کرنے والوں کو جبری قید، ڈرانے دھمکانے، مقدمات میں الجھانے سے لے کر صفحہ ہستی سے مٹانے جیسے اقدامات کا سامنا ہے۔

اقوام متحدہ کے جنرل سیکرٹری کو ایران میں انسانی حقوق کی صورت حال سے متعلق پیش کردہ ایک حالیہ رپورٹ میں میشیل باچیلے نے بتایا ہے کہ ’’ایران میں رہنے والے مختلف قومیتوں، نسلوں اور ادیان کے پیروکاروں کا انسانی حقوق کے حوالے سے مستقبل انتہائی ڈراؤنا ہے۔

یو این میں ایران کے مستقل مندوب نے انسانی حقوق کی ہائی کمیشن رپورٹ کو ملک کے خلاف ’’سیاسی حربہ‘‘ قرار دیا ہے۔

منگل کے روز ایک بیان میں میشیل باچیلے نے کہا کہ رپورٹ میں جون 2020 سے 12 مارچ 2021 کی مدت کے دوران ہونے والے واقعات کور کئے گئے ہیں۔ ’’عمومی طور پر اس رپورٹ میں ایران میں بسنے والے تمام مذاہب، نسلوں اور معاشرے کے مختلف شعبوں سے تعلق رکھنے والے مرد وخواتین سے متعلق رونگٹے کھڑے کر دینے والے حقائق کا بیان ملتا ہے۔ ہمیں افسوس ہے کہ ایران میں سیاسی حقوق سے متعلق شرکت معیارات بین الاقوامی معیار کے مطابق نہیں چل رہے۔‘‘

یو این میں انسانی حقوق کے کمشنر کا ادارہ ایرانی عہدیداروں کے ساتھ مل کر ’’ایران میں انسانی حقوق کو یقینی بنانے والے اداروں‘‘ کے قیام کے لیے تیار ہے۔

رپورٹ کے مطابق ’’2020 کے دوران ایران میں 267 افراد کو پھانسی کی سزا سنائی گئی جبکہ صرف 91 لوگوں کو پھانسی دینے کی تصدیق کی گئی۔ 2021 میں اب تک 95 کو فنا کے گھاٹ اتارا جا چکا ہے۔ اس وقت بھی ایران میں 90 کم سن بچے پھانسی کی سزا پر عمل درآمد کے منتظر ہیں۔ چار لوگوں کو جلد ہی پھانسی ملنے والی ہے۔‘‘

بیان میں خبردار کیا گیا ہے کہ پھانسی کی زیادہ تر سزا منشیات کے مقدمات میں دی جا رہی ہے اور سزا پانے والوں میں کرد، عرب اور بلوچی اقلیات سے تعلق رکھنے والے افراد شامل ہیں۔