.

امریکا کے ہزاروں معاونین اورمترجمین کی افغانستان سے دوسرے ممالک میں منتقلی کامنصوبہ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

امریکا کی بائیڈن انتظامیہ نے افغانستان میں امریکی افواج کے ساتھ مترجم کے طور پرکام یا انھیں دوسری امداد مہیا کرنے والے ہزاروں افراد اور ان کے خاندانوں کو دوسرے ممالک میں منتقل کرنے کی تیاریاں تیز کردی ہیں۔

بائیڈن انتظامیہ کے ایک سینیرعہدہ دار نے بتایا ہے کہ ان افغانوں کی امریکا یا دوسرے ممالک میں داخلے کے لیے درخواستوں کی جانچ پرکھ کی جاچکی ہے۔ان افغانوں نے اپنے ملک میں گذشتہ 20 سال سے جاری جنگ کے دوران میں امریکیوں کی مترجم کے طور پر یا دوسرے کرداروں کی صورت میں مدد کی ہے۔

اس عہدہ دارنے اپنی شناخت ظاہرنہ کرنے کی شرط پر بتایا ہے کہ وائٹ ہاؤس نے بدھ کو اس منصوبے کے خدوخال کے بارے میں قانون سازوں کو آگاہ کرنے کا عمل شروع کردیا ہے۔

صدرجوبائیڈن کے اعلان کردہ پروگرام کے مطابق افغانستان سے امریکی اور نیٹو فورسزکا 11ستمبر تک انخلا مکمل ہوگا۔اس سے قبل کانگریس کے ارکان ،سابق فوجی اور دوسرے عہدے دار ان کی انتظامیہ پر یہ زوردے رہے ہیں کہ امریکا کی فوجی کارروائیوں میں معاونت کرنے والوں کو جنگ زدہ ملک سے نکال کر محفوظ مقامات پر منتقل کیا جائے۔

ری پبلکن پارٹی کے مشی گن سے تعلق رکھنے والے رکن پیٹرمیجر نے گذشتہ ہفتے ایوان میں گفتگو کرتے ہوئے کہا تھاکہ ’’ہمارے لیے اپنی زندگیوں کو داؤ پرلگانے والے بہادراتحادیوں کو تحفظ مہیا کرنا ہماری اخلاقی ذمہ داری ہے۔ہم ان کے لیے منصوبہ وضع کرنے کی غرض سے مہینوں انتظامیہ کے ساتھ مل کرکام کرتے رہے ہیں لیکن اس عمل کے بہت تھوڑے ٹھوس نتائج برآمد ہوئے ہیں۔‘‘

بائیڈن انتظامیہ کو کانگریس میں اس معاملے میں دونوں جماعتوں کے اراکین کی حمایت حاصل ہے۔اس نے اس سال نائن الیون سے قبل افغانستان میں جنگ کے خاتمے اور افواج کے انخلا کااعلان تو کررکھا ہے مگران افغانوں کی مدد کے لیے کسی منصوبے کا واضح اعلان نہیں کیا ہے۔

امریکا کے مددگار افغانوں کے انخلا کی خبرایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب صدر جو بائیڈن جمعہ کو افغان صدر اشرف غنی اور اعلیٰ مصالحتی قومی کونسل کے چیئرمین عبداللہ عبداللہ سے ملاقات کرنے والے ہیں۔