.

امریکا میں حزب اللہ کی جاسوسہ کوعمر قید کی سزا کا امکان

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

امریکا میں چھ ماہ سے زیر تفتیش لبنانی نژاد ایک خاتون جس پر لبنانی شیعہ ملیشیا حزب اللہ کے لیے جاسوسی کے الزام میں مقدمہ چلایا جا رہا ہے کو عمرقید کی سزا سنائی جا سکتی ہے۔

تریسٹھ سالہ مریم طہ تومسن کے خلاف جاسوسی کے مقدمہ کی سماعت گذشتہ مارچ میں شروع کی گئی تھی۔ واشنگٹن کی عدالت میں جاری کیس کی سماعت میں آج اس کی آخری پیشی ہے اور آج اسے عدالت کی طرف سے سزا سنائی جا سکتی ہے۔

مریم طہ نے تفتیش کے دوران اعتراف کیا کہ اس نے ایک لبنانی شہری جس کا تعلق حزب اللہ سے ہے کو عراق میں موجود امریکی فوجیوں کے بارے میں خفیہ معلومات فراہم کی تھیں۔ مریم نے بتایا کہ حزب اللہ کے اس رکن نے اس سے شادی کا بھی وعدہ کیا اور اسے لبنان لے جانے کی بھی یقین دہانی کرائی تھی۔ تاہم اس نے یہ وعدہ پورا نہیں کیا۔

مریم طہ نے بتایا کہ اس نے حزب اللہ کے لیے جاسوسی دسمبر 2019ء میں شروع کی۔ جنوری 2020ء کے دوران عراق کے دارالحکومت بغداد کے بین الاقوامی ہوائی اڈے پر ایرانی القدس ملیشیا کے کمانڈر قاسم سلیمانی کے قتل کے بعد اس نے عراق میں موجود امریکی فوجیوں کے بارے میں حزب اللہ کو معلومات فراہم کی تھیں۔

مریم طہ کو کمپیوٹر کے ذریعے حساس معلومات تک رسائی کی اجازت حاصل تھی۔ اسے یہ اجازت اس وقت دی گئی جب وہ امریکی فوج کے اسپیشل آپریشنز کی تفصیلات کے ترجمہ کے فرائض ادا کر رہی تھی۔ اس نے اعتراف کیا کہ وہ لبنانی حزب اللہ کو عراق میں امریکی فوج کے لیے مخبری کرنے والوں کے نام بھی دے چکی ہے۔

اس نے بتایا کہ ایک لبنانی شہری نے چند سال قبل اس سے ملاقات کی۔ اس نے شادی کرنے اور لبنان واپس لے جانے کا وعدہ کیا اور اس کے بدلے میں اس نے جاسوسی کی درخواست کی۔ اس نے لبنانی شخص کو حساس معلومات کی فراہمی کی یقین دہانی کرائی اور اسے اہم معلومات بھی فراہم کیں۔