.

ایران کی تشدد پسند حکومت کے ساتھ معاہدوں کا کوئی جواز نہیں: بینیٹ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

اسرائیلی وزیر اعظم نفتالی بینیٹ نے جمعرات کے روز اس بات پر زور دیا کہ وہ پرتشدد ایرانی رجیم کے ساتھ معاہدے نہیں کریں گے۔ ان کا کہنا تھا کہ ابراہیم رئیسی جیسے سخت گیر شخص کو صدر منتخب کرنے والوں کے ساتھ کسی قسم کے معاہدے نہیں کیے جانے چاہئیں۔

جس نے ابراہیم رئیسی کو ایران کا صدر منتخب کیا ، اس کے ساتھ معاہدہ نہیں کرنا چاہئے۔

اسرائیلی وزیراعظم کی طرف سے یہ بیان ایک ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب دوسری طرف ایران میں انسانی حقوق کے کارکنوں اور سابق قیدیوں نے ابراہیم رئیسی کے جرائم کا پردہ چاک کرتے ہوئے گواہی دی ہے کہ نو منتخب صدر ابراہیم رئیسی سنہ 1988 میں ہزاروں سیاسی قیدیوں کے قتل عام اور قیدیوں کی آبرو ریزی میں ملوث ہیں۔ قیدیوں کے خلاف انسانیت سوزمظالم کی نگرانی رئیسی کرتے رہے ہیں۔

ابراہیم رئیسی
ابراہیم رئیسی

اس قتل عام کے متاثرین نے رئیسی کے خلاف براہ راست شہادتیں فراہم کیں۔ قیدیوں کو پھانسی دینے میں ابراہیم رئیسی کا کلیدی کردار رہا ہے۔ ان کا خیال ہے کہ ایرانی سپریم لیڈر علی خامنہ ای نے خود کو درپیش بحرانوں سے بچانے کے لیے رئیسی کو صدر منتخب کیا ہے۔

بینیٹ نے کچھ دن پہلے ہی کہا تھا کہ نئے ایرانی صدر کا انتخاب بڑے ممالک کے لیے لمحہ فکریہ ہے۔ دنیا کو ایران کے حوالے سے بیدار ہونا ہوگا۔

العربیہ اور الحدث کے نامہ نگار کے مطابق اتوار کو اسرائیلی وزیراعظم نے کابینہ کےاجلاس میں نفتالی بینیٹ نے کہا کہ ایرانی عوام نے ابراہیم رئیسی کو منتخب نہیں کیا ہے۔ ان کا اشارہ صدارتی انتخابات میں کم ٹرن آؤٹ کی طرف تھا۔