.

جارج فلائیڈ کے قاتل سابق پولیس افسر کو ساڑھے 22 سال قید کی سزا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

مئی 2020 میں مینیپولیس میں افریقی نژاد امریکی شخص جارج فلائیڈ کے قتل کے لیے مجرم قرار دیے جانے والے سابق امریکی پولیس افسر کو 22 سال اور چھ ماہ قید کی سزا سنائی گئی ہے۔

جج نے کہا کہ ڈریک شاوین کی سزا 'آپ کی جانب سے اعتماد اور اختیار کی حامل پوزیشن کے غلط استعمال پر مبنی ہے ، اور خاص طور پر جس طرح مسٹر فلائیڈ کے لیے سفاکی دکھائی گئی۔'

48 سالہ جارج فلائیڈ نو منٹ تک گردن پر شاوِن کا گھٹنہ دبائے رکھنے کے بعد چل بسے تھے۔

اس کے قتل سے نسل پرستی اور پولیس کی بربریت کے خلاف عالمی سطح پر احتجاج ہوا۔

45 سالہ شاوین کو گذشتہ ماہ سیکنڈ ڈگری کے قتل اور دیگر الزامات میں مجرم قرار دیا گیا تھا۔ اس مقدمے کی سماعت کے دوران ، ان کے وکیل نے اس قتل کو 'نیک نیتی سے کی گئی غلطی' کے طور پر بیان کیا۔

شاون کا اندراج شکاری مجرم کے طور پر کیا گیا اور اب ان کے آتشیں اسلحہ رکھنے پر تاحیات ممانعت ہے۔

ان پر اور تین دیگر سابق افسران پر جارج فلائیڈ کے شہری حقوق کی خلاف ورزی کرنے کے الزامات عائد کیے گئے ہیں۔

فلائیڈ خاندان اور ان کے حامیوں نے اس سزا کا خیرمقدم کیا۔

جارج فلائیڈ کیسے قتل ہوا؟

گذشتہ برس 25 مئی کی شام کومینیاپولس میں پولیس کو ایک پاس کے گروسری سٹور سے فون آیا جس میں یہ الزام لگایا گیا کہ ایک شخص جارج فلائیڈ نے جعلی 20 ڈالر کے نوٹ کے ساتھ ادائیگی کی ہے۔

پولیس اہلکاروں نے موقع پر پہنچ کر انھیں پولیس گاڑی میں داخل کرنے کی کوشش کی جس سے وہ زمین پر گر پڑے اور انھوں نے پولیس کو بتایا کہ انھیں بند جگہ سے گھٹن اور گھبراہٹ ہوتی ہے کیونکہ وہ کلسٹروفوبک ہیں۔

پولیس کے مطابق انھوں نے جسمانی طور پر مزاحمت کی لیکن انھیں ہتھکڑی لگا دی گئی۔ واقعے کی ویڈیو میں یہ بات سامنے نہین آتی کہ تصادم کیسے شروع ہوا۔

بہرحال پولیس افسر ڈیرک شاوین کے گھٹنے کے نیچے ان کی گردن نظر آئی جہاں سے جارج فلائیڈ کو یہ کہتے ہوئے سنا جا سکتا ہے کہ ’پلیز، میں سانس نہیں لے پا رہا ہوں‘ اور ’مجھے مت مارو۔‘

کاؤنٹی کے طبی معائنہ کار کی جانب سے کی جانے والی ابتدائی پوسٹ مارٹم کی رپورٹ کے پولیس افسر نے جارج فلوئیڈ کی گردن پر آٹھ منٹ 46 سیکنڈ تک گھٹنے ٹیکے تھے جس میں سے تقریباً تین منٹ بعد ہی فلائيڈ بے حرکت ہو گئے تھے۔

پولیس افسر شاوین کے اپنا گھٹنا ہٹانے سے لگ بھگ دو منٹ قبل دیگر افسران نے جارج فلائیڈ کی دائیں کلائی کو نبض کے لیے چیک کیا لیکن انھیں نبض نہیں مل سکی۔ انھیں ہسپتال لے جایا گیا جہاں ایک گھنٹے بعد انھیں مردہ قرار دیا گیا۔

جارج فلوئيڈ کے ایک وکیل نے ڈیرک چاون پر دانستہ طور پر سوچ سمجھ کر قتل کرنے کا الزام لگایا تھا۔