.

جرمنی میں کہیں بھی حماس کا پرچم لہرانے پر مکمل پابندی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

جرمن پارلیمنٹ نے ملک بھر میں حماس کے جھنڈوں اور علامتوں کے استعمال پر پابندی کی منظوری دے دی ہے۔ اس اقدام کا مقصد ملک میں انتہا پسندانہ گفتگو کی حوصلہ شکنی اور تشدد کو ہوا دینے سے روکنا ہے۔

گذشتہ ہفتوں کے دوران جرمنی میں متعدد مقامات پر فلسطینی تنظیم اسلامی تحریک مزاحمت’حماس‘ کے جھنڈے لہرانے کے واقعات کے بعد یہ اقدام اٹھایا گیا ہے۔ جرمنی میں متعدد مقامات پر ہونے والے اسرائیل مخالف احتجاجی مظاہروں میں حماس کے پرچم لہراے گئے تھے۔

قابل ذکر بات یہ ہے کہ پچھلے جرمن قوانین کے مطابق پارلیمنٹ کو پہلے کسی تحریک یا انجمن پر پابندی سے قبل اس کا تعین کرنا ہوتا تھا۔ تاکہ قانون سازوں اس کی علامتوں کے استعمال کو جرم قرار دینے کے لیے قانون سازی کا موقع فراہم کیا جا سکے۔ اس ضمن میں حماس اور کرد ورکرز پارٹی جیسی دہشت گرد تنظیموں کا معاملہ یورپی یونین کی سطح پر بھی زیر بحث رہا ہے۔

اس سے قبل مقامی رپورٹس میں بتایا گیا تھا کہ جرمنی میں کرسچن یونین اور سوشل ڈیموکریٹک پارٹی پر مشتمل حکومتی اتحاد نے حماس کی حمایت اور اسرائیل کے خلاف ہونے والے مظاہروں میں حماس کے پرچم لہرانے پرپابندی عاید کی تھی۔