.

جوہری ڈیل کوبچایاجاسکتا ہےلیکن ہمیشہ مذاکرات نہیں کرتے رہیں گے: ایران

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

ایران نے کہا ہے کہ چھے عالمی طاقتوں کے ساتھ 2015ء میں طے شدہ جوہری سمجھوتے کو بچایا جاسکتا ہے لیکن ساتھ ہی اس نے خبردار کیا ہے کہ وہ اس موضوع پر ہمیشہ مذاکرات نہیں کرتا رہے گا۔

ایرانی وزارتِ خارجہ کے ترجمان سعید خطیب زادہ نے ہفتے کے روز ایک ٹویٹ میں کہا ہے کہ ’’ایران جوہری سمجھوتے کو بچانے کاپختہ عزم رکھتا ہے جبکہ امریکا نے اس کو سبوتاژ کرنے کی کوشش کی ہے۔ایران نے ویانا میں مذاکرات میں اب تک سب سے فعال کردار ادا کیا ہے اور اس نے سب سے زیادہ تجاویزپیش کی ہیں۔‘‘

انھوں نے کہا کہ ’’اگرامریکا سابق صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی ناکام پالیسی سے دستبردار ہوجائے تو جلد ایک نئی ڈیل ممکن ہے لیکن ایران ہمیشہ کے لیے مذاکرات جاری نہیں رکھے گا۔‘‘

ویانا میں قائم جوہری توانائی کے عالمی ادارے(آئی اے ای اے) نے ایران سے جمعہ کو مطالبہ کیا ہے کہ وہ اپنی تنصیبات کی نگرانی کے لیے سمجھوتے کی بحالی سے متعلق درخواست کا فوری جواب دے جبکہ ایران کے ایک ایلچی کا اس کے ردعمل میں کہنا تھا کہ ان کا ملک اس سوال کا جواب دینے کا پابند نہیں ہے۔

ایران اور چھے عالمی طاقتوں کے درمیان اپریل سے ویانا میں جوہری سمجھوتے کی بحالی سے متعلق امور پر مذاکرات کے چھے دور ہوچکے ہیں۔تاہم ابھی تک ان کے درمیان امریکا کی جوہری سمجھوتے میں واپسی کے لیے مجوزہ اقدامات اور ایران کی جانب سے سمجھوتے کی مکمل پاسداری سے متعلق اختلافی امور طے نہیں ہوسکے ہیں۔

واضح رہے کہ امریکا کے سابق صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے مئی 2018ء میں ایران سے طے شدہ جوہری سمجھوتے سے یک طرفہ طور پرعلاحدگی کااعلان کردیا تھا اور اس کے خلاف اسی سال نومبر میں سخت اقتصادی پابندیاں عاید کردی تھیں۔ان سے ایرانی معیشت زبوں حال ہوچکی ہے۔

امریکا کی موجودہ بائیڈن انتظامیہ ایران کے ساتھ اب ایک نظرثاتی شدہ جامع سمجھوتے پر زوردے رہی ہے جس کے تحت اس کے جوہری پروگرام کے علاوہ بیلسٹک میزائلوں کے پروگرام کی سرگرمیوں پر بھی قدغنیں عاید کی جائیں گی۔تاہم وہ اس کی خطے کے ممالک میں گماشتہ تنظیموں کے ذریعے مداخلت کو روک لگانے پر زیادہ زور نہیں دے رہی ہے۔

ایران اور چھے عالمی طاقتوں کے مذاکرات کاروں نے اسی ہفتےبات چیت غیرمعیّنہ مدت کے لیے ملتوی کردی ہے اور ان کے درمیان موجود مختلف امور پر اختلافات دور نہیں ہوسکے ہیں۔تمام مذاکرات کار مزید مشاورت کے لیے اپنے اپنے دارالحکومتوں کو لوٹ چکے ہیں اور ان کے درمیان جولائی کے اوائل میں مذاکرات کا نیا دور متوقع ہے۔