.

بھارت سے آنے والے مسافروں کے یواے ای میں داخلے پرپابندی برقرار ہے:ایوی ایشن اتھارٹی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

متحدہ عرب امارات کی فیڈرل ایوی ایشن اتھارٹی نے واضح کیا ہے کہ بھارت ، جنوبی افریقا اور نائجیریا سے آنے والے مسافروں کے ملک میں داخلے پر پابندی برقرار ہے اور اس میں کوئی تبدیلی رونمانہیں ہوئی ہے۔

محکمہ شہری ہوابازی نے یہ وضاحت اتوار کو امارت دبئی کے ایک اعلان کے بعد جاری کی ہے جس میں اس نے کہا ہےکہ ان تینوں ممالک سے تعلق رکھنے والے مسافروں کے داخلے پر عاید پابندی میں نرمی کی جارہی ہے۔

دبئی یو اے ای کے وفاق میں شامل سات امارتوں میں سب سے گنجان آبادعالمی کاروباری اور سیاحتی مرکز ہے۔کرونا وائرس کی وبا کے دوران میں ساتوں امارتوں نے وفاق کی پابندیوں کے علاوہ الگ سے بھی بین الاقوامی مسافروں پربعض قدغنیں عاید کی ہیں۔

یو اے ای کی جنرل سول ایوی ایشن اتھارٹی نے ائیرمین (نوٹام) کو جاری کردہ ایک نوٹس میں اپنے 21 جون کے ایک اعلامیے کا حوالہ دیا ہے۔اس میں پاکستان سمیت تیرہ ممالک سے آنے والے مسافروں کے یواے ای میں داخلے پر پابندی عاید کردی گئی تھی۔

دبئی نے 19 جون کو ایک بیان میں کہا تھا کہ گذشتہ 14 روز کے دوران میں بھارت ، نائجیریا اور جنوبی افریقا جانے والے مسافروں کے امارات میں داخلے پر 23 جون سے نرمی کردی جائے گی۔

ان نئی تبدیلیوں کے تحت بھارت میں مقیم یو اے ای کے مکینوں کو کروناوائرس کی مکمل ویکسین لگوانے کی صورت میں دبئی میں داخل ہونے کی اجازت ہوگی۔اسی طرح جنوبی افریقا میں موجود کسی بھی فرد کو ویکسین کی دونوں خوراکیں لگوانے کی صورت میں آنے کی اجازت دے دی جائے گی لیکن نائجیریا سے آنے والے مسافروں کو گذشتہ 48 گھنٹے کے دوران میں کرونا وائرس کے کرائے گئے پی سی آر ٹیسٹ کی منفی رپورٹ پیش کرنا ہوگی۔

جنرل سول ایوی ایشن اتھارٹی کے ایک نمایندے نے آج وضاحت کی ہے کہ بھارت سے آنے والے مسافروں کے یواے ای میں داخلے پر بدستور پابندی برقرار ہے لیکن اس نے واضح کیا ہے کہ دبئی حکومت اس ضمن میں اپنی وضاحت جاری کرے گی۔

دبئی کی ملکیتی الامارات ائیرلائنز نے ٹویٹرپر اطلاع دی ہے کہ بھارت کے لیے 7 جولائی سے پروازیں دستیاب ہوں گی لیکن ساتھ ہی اس نے خبردار کیا ہے کہ اس شیڈول میں تبدیلی کی جاسکتی ہے۔

واضح رہے کہ یو اے ای میں بھارتی تارکین وطن لاکھوں کی تعداد میں آباد ہیں۔ ان کے علاوہ بھی بھارتی شہری بڑی تعداد میں سیروسیاحت کے لیے دبئی کا رُخ کرتے ہیں۔

دبئی کی سپریم کمیٹی برائے کرائسیس اور ڈیزاسسٹر مینجمنٹ نے قبل ازیں کہا تھا کہ جنوبی افریقا ، نائجیریا اور بھارت سے تعلق رکھنے والے مسافروں کو بدھ 23 جون سے ملک میں آنے کی اجازت ہوگی۔

بھارت سے تعلق رکھنے والے مسافروں پر ایک اضافہ شرط عاید کی گئی تھی۔ان کے پاس کارآمد اقامتی ویزا ہونا چاہیے،وہ یو اے ای کی منظورشدہ کسی ایک ویکسین کی دونوں خوراکیں لگوا چکے ہوں اور انھیں سفر پر روانہ ہونے سے 48 گھنٹے قبل کرائے گئے پی سی آر ٹیسٹ کی منفی رپورٹ پیش کرنا ہوگی۔

البتہ بھارت میں مقیم یواے ای کے شہری اس پابندی سے مستثنا ہوں گے۔ اعلامیے کے مطابق بیرون ملک سے مسافروں کی دبئی میں آمد کے بعد صرف کیو آر کوڈ والا منفی پی سی آر ٹیسٹ کاسرٹی فیکیٹ ہی قبول کیا جائے گا۔

مزید برآں بھارت سے تعلق رکھنے والے مسافروں کو دبئی روانہ ہونے سے چارگھنٹے قبل ایک اور پی سی آر ٹیسٹ کرانا ہوگا۔دبئی میں آمد کے بعد انھیں دوسرا پی سی آر ٹیسٹ کرانا ہوگا۔انھیں ان ٹیسٹوں کی رپورٹ موصول ہونے تک ادارہ جاتی قرنطین میں رہناہوگا۔تاہم یو اے ای کے شہریوں اور سفارت کاروں کو ادارہ جاتی قرنطین میں رہنے کی ضرورت نہیں ہوگی۔