.

کابل ہوائی اڈے کی تعمیر پرامریکا سے مذاکرات میں ترکی کے مقاصد کیا ہیں؟

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

جون کے اوائل میں ترک حکومت کی طرف سے تجویز کردہ منصوبے کے تحت انقرہ کی جانب سے افغان دارالحکومت کابل میں حامد کرزئی ہوائی اڈے کی تیاری اور اس کے آپریشنل انتظامات کے بارےمیں امریکا اور ترکی کے درمیان مذاکرات جاری ہیں۔

یہ مذاکرات اس وقت شروع ہوئے تھے جب امریکا نے افغانستان سے اپنی فوجیں نکالنے کا اعلان کیا۔ امریکا بیس سال افغانستان میں رہنے کے بعد اب وہاں سے واپس جا رہا ہے مگر ترکی کا کابل کے بین الاقوامی ہوائی اڈے کا انتظام سنھبالنا دراصل ترک فوج کو کابل میں تعینات رکھنے کا موقع تلاش کرنا ہے۔

گذشتہ تقریبا 6 برسوں سے سیکڑوں ترک فوجی افغانستان میں موجود ہیں اور شمالی اوقیانوس آرگنائزیشن (نیٹو) کی افواج کے ایک حصے کے طور پر غیر جنگی مشنوں پر کام کررہے ہیں۔ نیٹو فورسز امریکی فوج کے ساتھ گیارہ ستمبر تک افغانستان چھوڑنے کی تیاری کررہی ہیں۔ افغانستان میں اس وقت نیٹو فوجیوں کی مجموعی تعداد چھ سو اہلکاروں پرمشمل ہے۔

ترکی کے دانشور اورانقرہ یونیورسٹی کے سابق پروفیسر الہان اوزگل نے کابل میں ترک فوج کے بدستور برقرار رہنے پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ ترک صدر رجب طیب ایردوآن کی حکومت اپنی بین الاقوامی تنہائی اور ملک کے اندر دبے ہوئے معاشی بحران جیسے مشکل وقت سے گذر رہی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اسے فوری طور پر امریکی صدرجو بائیڈن کی حمایت کی ضرورت ہے۔

ترک تجزیہ نگار نے "العربیہ ڈاٹ نیٹ" سے گفتگو کرتے ہوئے مزید کہا کہ ایردوآن کے لیے کابل ایئرپورٹ کی حفاظت کی تجویز امریکا کے قریبی حلیف کے طور پر خود کوثابت کرنے کا بہترین طریقہ ہے۔ آرمینی باشندوں کی نسل کشی کے امریکی اعتراف اور شام میں کرد جنگجوؤں کے لیے واشنگٹن کی مسلسل حمایت کے ساتھ انقرہ کا روس کے فضائی دفاعی نظام ایس -400 کی ڈیل کے نتیجے میں واشنگٹن اور انقرہ کے درمیان جو تناؤ پیدا ہوا ہے، اسے کم کرنے میں کابل ہوائی اڈے کا انتظام سنھبالنا ایک اچھا موقع ہے۔

کچھ دن قبل امریکی فوجی وفد کے ترکی کے دورے کے باوجود انقرہ نے واشنگٹن کے ساتھ کابل میں بین الاقوامی ہوائی اڈے کی سیکیورٹی سے متعلق کسی معاہدے کا اعلان نہیں کیا۔ترک وزارت دفاع نے کل ہفتے کے روز ایک بیان میں کہا تھا کہ کابل ہوائی اڈے کے انتظام کی ذمہ داریاں ترکی کو سونپنے کے بارے میں بات چیت جاری ہے تاہم وزارت دفاع نے اس کی مزید تفصیل بیان نہیں کیں۔

پروفیسراوزگل نے کا کہنا ہےکہ انقرہ کو کابل ایئر پورٹ کی حفاظت سے متعلق امریکا سے منظوری حاصل کرنے کا امکان نہیں تھا۔ یہ ہوائی اڈا سفارتی مشنوں کے لیے راہداری اور امدادی اور انسانی امداد کے لیے ایک داخلی دروازے کی حیثیت سے بہت اہمیت کا حامل ہے۔

اوزگل نےکہا کہ انقرہ کو بین الاقوامی ہوائی اڈے کی حفاظت کی اجازت دینا مشکل معلوم ہوتا ہے۔ واشنگٹن کچھ عرصے سے ترکی پرخطے عدم استحکام سے دوچار کرنے سے باز رہنے کے لیے دباؤ ڈال رہا ہے۔ ترکی کو کابل ہوائی اڈے کا انتظام سونپنا ظاہر کرتا ہے کہ واشنگٹن انقرہ سے جو مطالبہ کررہا ہے، ترک حکومت نے اسے مان لیا ہے۔