.

ایتھوپیا کا تيغرائی میں جاری مسلح تنازع کے خاتمے کے لیے یک طرفہ اعلانِ جنگ بندی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

ایتھوپیا کی حکومت نے سوموار کے روز اپنے علاقے تيغرائی میں گذشتہ قریباً آٹھ ماہ سے جاری لڑائی کو فوری روکنے کے لیے یک طرفہ جنگ بندی کا اعلان کیا ہے۔اس شورش زدہ علاقے کے مکین لاکھوں افراد کواس وقت گذشتہ ایک عشرے میں بدترین قحط کا سامنا ہے۔

ایتھوپیا کی وفاقی حکومت نے تيغرائی میں مقررکردہ اپنی عبوری انتظامیہ کے علاقائی دارالحکومت میکیلی سے راہ فرار اختیارکرنے کے بعد جنگ بندی کا اعلان کیا ہے۔ اس انتظامیہ نے حکومت سے انسانی بنیادپر فوری جنگ بندی کا مطالبہ کیا تھا تاکہ علاقے میں ضروری امدادی اشیاء مہیا کی جاسکیں۔

میکیلی کے مکینوں نے تيغرائی فورسز جبھۃ التحریر کی آمد پرخوشی کا اظہار کیا ہے۔عبوری انتظامیہ کے فرار کے بعد اس ملیشیا کے جنگجو تيغرائی میں داخل ہوگئے ہیں۔

ایتھوپیا کی حکومت نے اپنے بیان میں کہا ہے کہ جنگ بندی کے بعد کسان اپنی اراضی پر کام کر سکیں گے، امدادی گروپ کسی فوجی نقل و حرکت کے بغیر اپنی سرگرمیاں انجام دے سکیں گے اورتيغرائی کی سابق حکمراں جماعت کے امن کے خواہاں عناصر کے ساتھ مل کر امدادی سرگرمیاں انجام دے سکیں گے۔

سرکاری میڈیا سے جاری کردہ بیان میں واضح کیا گیا ہے کہ تيغرائی میں جنگ بندی شجرکاری کے موسم کے اختتام تک جاری رہے گی۔اس سیزن کا اختتام ستمبر میں ہوتا ہے۔ حکومت نے تمام وفاقی اور علاقائی حکام کو جنگ بندی کا احترام کرنے کی ہدایت کی ہے۔ پڑوسی علاقے امہارا کے حکام اور جنگجوؤں پر مغربی تيغرائی میں لوگوں پر مظالم ڈھانے کے الزامات عاید کیے گئے ہیں۔

تيغرائی کی عبوری انتظامیہ کے سربراہ ابراہام بیلے نے حکومت سے جنگ بندی کا مطالبہ کیا تھا اور اس مسئلے کا سیاسی حل تلاش کرنے کی ضرورت پر زوردیا تھا۔انھوں نے مزید کہا کہ تيغرائی کی سابق حکمران جماعت میں شامل کچھ عناصر وفاقی حکومت کے ساتھ مذاکرات پرآمادہ ہیں۔

تيغرائی کے جنگجوؤں کی جانب سے فوری طور پر ایتھوپیا کی وفاقی حکومت کے اعلان جنگ بندی پر کوئی تبصرہ نہیں کیا گیا۔قبل ازیں ایتھوپیا نے ان کے ساتھ مذاکرات کی تجویزکو مسترد کردیا تھا۔پڑوسی ملک اریٹیریا نے بھی فوری طور پر کوئی تبصرہ نہیں کیا ہے۔اس کے فوجیوں کے خلاف تيغرائی کے مکینوں پربدترین جنگی مظالم ڈھانے کے الزامات عاید کیے گئے ہیں۔

اس تنازع میں اب تک ہزاروں افراد ہلاک ہو چکے ہیں۔ ایتھوپیا اوراتحادی افواج تيغرائی کے سابق لیڈروں اور ان کے حامیوں کا پیچھا کررہی ہیں جبکہ انسانی امدادی گروپ 60 لاکھ افراد کی آبادی والے اس علاقے تک مزید رسائی دینے کی اپیلیں کر رہے ہیں۔

حالیہ دنوں میں اس علاقے میں لڑائی میں شدت آئی تھی۔ گذشتہ ہفتے تيغرائی میں ایک مصروف بازار پرفوجی فضائی حملے میں 60 سے زیادہ افراد ہلاک ہوگئے تھے۔اس کے بعد ایتھوپیا پر جنگ بندی کے لیے بین الاقوامی دباؤ میں اضافہ ہوا تھا۔