.

شام میں داعش کے 10 ہزارجنگجوایس ڈی ایف کی حراست میں ہیں:انٹونی بلینکن

داعش مخالف اتحاد میں شامل ممالک اپنے شہری جنگجوؤں کوواپس بلائیں،انھیں بحالی میں مدد دیں یا مقدمات چلائیں

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

امریکی وزیرخارجہ انٹونی بلینکن نے انکشاف کیا ہے کہ اس وقت سخت گیرگروپ داعش کے قریباً 10 ہزار جنگجو شامی جمہوری فورسز(ایس ڈی ایف) کے زیرانتظام کیمپوں میں زیرحراست ہیں اوران کی حراست کوئی بہترصورت حال کی عکاسی نہیں کرتی ہے۔

وہ سوموار کے روز اطالوی دارالحکومت روم میں انتہاپسند داعش کے خلاف از سرنوبین الاقوامی کوششوں کو منظم کرنے کے سلسلے میں منعقدہ اجلاس میں تقریر کررہے تھے۔انھوں نے امریکا کی طرف سے داعش مخالف اتحاد میں شامل 78 ممالک اوردنیا کے دوسرے ملکوں پر زوردیا ہے کہ وہ ادعش میں شامل ہونےوالے شہریوں کو واپس بلائیں۔

انھوں نے کہا کہ ’’یہ صورت حال عارضی ہے اور اس کو غیرمعینہ مدت کے لیے جاری نہیں رکھاجاسکتا۔امریکا داعش کے جنگجوؤں کے آبائی ممالک پر مسلسل یہ اصرار کرتا رہے گاکہ وہ انھیں واپس بلائیں،ان کی معاشرے میں بحالی میں مدددیں اورجہاں انھیں اپنے شہریوں کے خلاف مقدمات چلانے کی ضرورت ہے،ان کے خلاف قانونی کارروائی کریں۔‘‘

انٹونی بلینکن نے کہا کہ داعش کو مستقل بنیاد پر شکست سے دوچار کرنے کے لیے ایک اور بنیادی عنصر یہ ہے کہ اس گروپ سے عراق اور شام سے باہرافریقا میں بھی لاحق خطرات کومستقل بنیاد پر ختم کیا جائے۔

واضح رہے کہ داعش نے 2014ء میں عراق میں سراٹھایا تھا۔ابتدا میں تویہ القاعدہ کی ایک ذیلی تنظیم تھی لیکن اس نے بہت جلدعراق اور شام کے ایک بڑے علاقے پر قبضہ کر لیا تھا اور وہاں اپنی حکومت قائم کرلی تھی جہاں لوگوں کے سرقلم کیے جاتے اور معمولی جرائم پر انھیں کوڑے مارے جاتے تھے۔

امریکا کی قیادت میں اتحاد نے 2017ء میں داعش کے خلاف جنگ میں اپنی فتح کا اعلان کیا تھا۔شام اور عراق میں اس کے زیرقبضہ علاقے واگزار کرالیے گئے تھے۔اس کے ہزاروں جنگجوؤں کو ہلاک یا گرفتارکرلیا گیاتھا جبکہ سیکڑوں جنگجوبچ نکلنےمیں کامیاب ہوگئے تھے اور وہ خفیہ کمین گاہوں میں روپوش ہوگئے تھے۔وہ تب سے عراق کے شمالی علاقوں اور شام کے سرحدی علاقے میں گاہے گاہے حملے کرتے رہتے ہیں۔

حالیہ مہینوں کے دوران میں داعش کے جنگجوؤں نے عراق میں 25 تباہ کن حملے کیے ہیں۔جنوری میں بغداد کے ایک مصروف بازار میں بم دھماکے میں 30 سے زیادہ افراد ہلاک ہوگئے تھے۔حالیہ برسوں کے دوران میں مغربی افریقا کے ساحل ریجن میں القاعدہ اور داعش سے وابستہ جنگجو گروپ زیادہ مضبوط ہوئے ہیں۔حالانکہ خطے کے ممالک کے علاوہ اقوام متحدہ اور بعض مغربی ممالک نے اپنے ہزاروں فوجی اس علاقے میں تعینات کررکھے ہیں۔