.

اسرائیلی وزیرخارجہ کا یو اے ای کا پہلا دورہ؛ابوظبی میں نئے سفارت خانہ کا افتتاح

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

اسرائیل کے نئے وزیرخارجہ یائرلاپیڈ متحدہ عرب امارات کے پہلے دوروزہ سرکاری دورے پر ابوظبی پہنچے ہیں۔انھوں نے منگل کے روز اماراتی دارالحکومت میں ایک عارضی عمارت میں اسرائیل کے نئے سفارت خانے کا افتتاح کیا ہے۔

دونوں ملکوں کے درمیان معمول کے تعلقات کی بحالی کے بعد کسی اسرائیلی وزیرکا یواے ای کا یہ پہلا دورہ ہے۔ وہ دبئی میں اسرائیل کے ایک قونصل خانے کا افتتاح بھی کرنے والے ہیں اور یو اے ای کے ساتھ دو طرفہ اقتصادی تعاون سے متعلق ایک سمجھوتے پر دست خط کریں گے۔

یائرلاپیڈ نے ابوظبی میں سفارت خانہ کے افتتاح کے موقع پر کہا کہ ’’اسرائیل اپنے تمام ہمسایوں کے ساتھ امن چاہتا ہے۔ہم کہیں جانے والے نہیں،مشرقِ اوسط ہمارا وطن ہے۔‘‘

انھوں نے کہا کہ ’’ہم یہاں رہنے کے لیے ہیں۔ہم خطے کے تمام ممالک پر زوردیتے ہیں کہ وہ اس (حقیقت) کو تسلیم کریں۔‘‘

یائرلاپیڈ نے گذشتہ سال یو اے ای اور بحرین سے معاہدہ ابراہیم طے کرنے پر سابق وزیراعظم بنیامین نیتن یاہو کے کردار کو سراہا اور امریکا کے سابق صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور موجودہ صدر جوبائیڈن کا بھی شکریہ ادا کیا ہے جنھوں نے اسرائیل کو تسلیم کرنے والے عرب اور مسلم ممالک کے حلقے کو وسیع کرنے کا عزم ظاہر کیا ہے۔

اسرائیلی وزارت خارجہ کے ترجمان لائرحیات نے بتایا ہے کہ آج اسرائیل اور یواے ای کے درمیان دوطرفہ تعاون کے فروغ سے متعلق بارھواں سمجھوتا طے پارہا ہے۔

یائرلاپیڈ دبئی میں نمائش 2020ء کی جگہ پر بھی جائیں گے۔اس عالمی نمائش کا اکتوبر میں افتتاح ہوگا اور اسرائیل نے بھی اس میں اپنا ایک پویلین تعمیر کیا ہے۔

اسرائیل نے ابوظبی میں اپنے نئے سفارت خانہ میں ابھی صرف تین سفارت کاروں اور مشن کے سربراہ ایتان نوح کا تقرر کیا ہے لیکن ان کے مکمل سفیر کے طور پر تقرر کی تصدیق نہیں کی ہے۔دبئی میں اسرائیل کا قونصل خانہ بھی عارضی جگہ پر قائم ہوگا اور اس کو بعد میں کسی مستقل عمارت میں منتقل کیا جائے گا۔

اسی ماہ تل ابیب میں متحدہ عرب امارات کے سفارت خانے نے اپنا کام شروع کردیا تھا اور اسرائیل میں یو اے ای کے پہلے سفیرمحمد الخاجہ نے تل ابیب میں اپنی سفارتی ذمے داریاں سنبھال لی تھیں۔اس سے پہلے اسرائیل نے یو اے ای میں اپنا سفارت خانہ کھولنے کا اعلان کیا تھا اور تجربہ سفارت کار ایتان نوح کو اپنے مشن کا سربراہ مقرر کیا تھا۔

واضح رہے کہ یواے ای کی کابینہ نے مئی میں تل ابیب میں اپنا سفارت خانہ قائم کرنے کی منظوری دی تھی جبکہ اسرائیل نے ابوظبی میں اپنا سفارت خانہ کھولنے کا اعلان کیا تھا۔اسرائیل نے اپنا دارالحکومت مقبوضہ بیت المقدس میں قائم کررکھا ہے اور وہ اس متنازع شہر کو اپنا دائمی دارالحکومت قرار دیتا ہے جبکہ اقوام متحدہ سمیت عالمی برادری اس کے اس دعوے کو تسلیم نہیں کرتی ہے۔

سابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے مقبوضہ بیت المقدس کو اسرائیل کا دارالحکومت تسلیم کرنے کا اعلان کیا تھا اور امریکی سفارت خانہ تل ابیب سے اس شہر میں منتقل کردیا تھا۔ چند ایک اور ممالک نے بھی اپنے سفارت خانے مقبوضہ بیت المقدس میں منتقل کیے ہیں جبکہ بیشتر ممالک تل ابیب ہی کو اسرائیل کا دارالحکومت تسلیم کرتے ہیں اور انھوں نے وہیں اپنے سفارت خانے برقرار رکھے ہوئے ہیں۔

واضح رہے کہ یو اے ای نے 13 اگست 2020ء کو اسرائیل کے ساتھ معمول کے سفارتی تعلقات استوار کرنے کے تاریخی امن معاہدے کا اعلان کیا تھا اور 15 ستمبر کو وائٹ ہاؤس میں سابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی ثالثی میں طے شدہ معاہدۂ ابراہیم پر سابق اسرائیلی وزیراعظم بنیامین نیتن یاہو اور اماراتی وزیرخارجہ شیخ عبداللہ بن زاید نے دست خط کیے تھے۔یو اے ای نے مصر اور اردن کے اسرائیل سے امن معاہدوں کے کوئی ربع صدی کے بعد معمول کے تعلقات استوار کیے تھے۔اس کے بعد بحرین ، مراکش اور سوڈان نے بھی اسرائیل سے معمول کے تعلقات استوار کر لیے ہیں۔