.

ایران: سابق انٹیلی جنس وزیر کا اہم اداروں میں اسرائیلی جاسوسوں کی موجودگی کا اعتراف

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

ایران کے سابق انٹیلی جنس وزیر علی یونسی نے اعتراف کیا ہے کہ اسرائیل کا بدنام زمانہ خفیہ ادارہ ’موساد‘ ایران کے تمام اہم اداروں میں اپنے ایجنٹ داخل کرچکا ہے۔ انہوں نے خبردار کیا کہ موساد کی ایران کے ریاستی اداروں میں مداخلت کے بعد ایرانی حکام کی زندگیاں خطرے میں پڑ چکی ہیں۔

منگل کو ایک انٹرویو میں علی یونسی نے کہا کہ ایرانی عہدیداروں کو اپنی زندگیوں کے حوالے سے چوکنا رہنا چاہیے کیونکہ موساد اس وقت ایران کے مختلف اداروں میں گھس چکی ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ سیکیورٹی ادارے دراندازوں کی نشاندہی کرنے کے بجائے انہیں فنڈنگ دینے والوں کا پیچھا کر رہےہیں۔ ایران کے متوازی نئے سیکیورٹی ادارے کے قیام کے بعد وزارت انٹیلی جنس کی کارکردگی کم زور ہوئی ہے۔

خیال رہے کہ علی یونسی سنہ 1997ء سے 2005ء تک صدر رہنے والے محمد خاتمی کے دور میں ایران میں انٹیلی جنس کے وزیر رہ چکے ہیں۔ انہوں نے یہ انٹرویو ایران کے ولایت فقیہ کے بانی خمینی کے پوتے حسن خمینی کی مقرب ویب سائٹ ’جماران‘ کو دیا۔

علی یونسی کے اس بیان سے قبل سابق ایرانی صدر محمود احمدی نژاد بھی ایرانی انٹیلی جنس اداروں میں اسرائیلی مداخلت کا دعویٰ کر چکے ہیں۔ انہوں نے دعویٰ کیا تھا کہ ایران میں انسداد جاسوسی شعبے کا ایک سابق سربراہ بھی اسرائیل کا جاسوس تھا۔

انہوں نے اعتراف کیا کہ موساد نے ایران کے اندر کئی اہم آپریشن انجام دیے ہیں اور اس نے ایران کی حساس جوہری معلومات اور حساس مراکز کی تفصیلات بھی حاصل کیں۔