.

ایران نواز گروپوں کے زیر استعمال ڈرون طیارے امریکا کے لیے باعث تشویش

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

پیر کے روز شام میں راکٹ باری اور اس سے قبل ایران کی ہمنوا ملیشیاؤں کی جانب سے ڈرون حملوں نے اس علاقے میں جارحیت کے خطرے پر روشنی ڈالی ہے۔ ساتھ ہی ان گروپوں کو روند ڈالنے کے لیے مطلوب امریکی ہتھیاروں کی قوت کو بھی عیاں کیا ہے۔ واشنگٹن تہران نواز ملیشیاؤں اور گروپوں کو عراق میں ڈرون حملوں کے ذریعے امریکی فوجیوں اور تنصیبات پر حملوں کا ذمے دار ٹھہراتا ہے۔

اتوار کی شام سے عراقی اور شامی اراضی پر امریکا اور تہران نواز گرپوں کے درمیان تناؤ میں اضافہ نظر آ رہا ہے۔ اس تناؤ میں اضافہ ڈرون حملوں میں تیزی آنے کے بعد ہوا ہے۔ متعدد امریکی ذمے داران بالخصوص وزارت دفاع کے عہدے داران اس چیز کو امریکی فوجیوں کے لیے خطرہ شمار کر رہے ہیں۔

امریکی نیوز چینل CNN کے مطابق موجود اور سابق ماہرین اور ذمے داران نے واضح کیا ہے کہ یہ ڈرون طیارے زیادہ درست حملوں پر قدرت رکھتے ہیں یہ حرکات و سکنات پر نظر رکھنے والے امریکی نظام کو چکمہ دے سکتے ہیں۔ اس وجہ سے خطے میں امریکی فوج کے لیے "خطرہ" بن گئے ہیں۔

معلومات کے مطابق ان میں بعض چھوٹے ڈرون طیارے (GPS) نظام کا استعمال کرتے ہیں۔ اس کے سبب یہ نگرانی کے امریکی نظام کے لیے کم واضح ہوتے ہیں۔

ایک سابق امریکی ذمے دار نے باور کرایا ہے کہ CIA اس مسئلے کو بڑی اہمیت دے رہی ہے۔

ماہرین کے مطابق یہ طیارے سستے ہیں۔ اس کا مطلب ہے کہ یہ متعدد مسلح گروپوں اور حکومتی اداروں کو یکساں طور پر دستیاب ہو سکتے ہیں۔

واضح رہے کہ دھماکا خیزمواد سے بھرے یہ نئے ڈرون طیارے مختلف حجم کے ہوتے ہیں۔ یہ طیارے 30 کلو گرام تک دھماکا خیز مواد لے جانے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔

دوسری جانب عراق میں امریکی مشن کے ترجمان کا کہنا ہے کہ معاند قوتوں کی جانب سے چھوٹے حجم کے ان طیاروں کے استعمال میں اضافہ ہو رہا ہے۔ اس کا مقصد امریکی اڈوں اور امریکا کے حلیف اڈوں کے حوالے سے انٹیلی جنس معلومات اکٹھا کرنا ہے۔

یاد رہے کہ امریکی مرکزی کمان کے سربراہ جنرل فرینک میکنزی پہلے ہی خبردار کر چکے ہیں کہ یہ ڈرون حملے خطے میں امریکی فورسز کے لیے سب سے بڑا خطرہ ہے۔