.

شام میں روس اور ایران کی مسابقت نے ہر شعبے کو لپیٹ میں لے لیا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

اگرچہ اس بات کی بارہا تردید کی جاتی رہی ہے کہ شام میں روس اور ایران کے درمیان کسی بھی قسم کی کوئی مسابقت یا رقابت موجود ہے۔ تاہم شامی سرزمین پر اس مسابقت کو چھپانا ممکن نہیں رہا۔ اس رقابت میں اقتصادی، سیاسی، عسکری، سماجی اور ثقافتی شعبوں سمیت مختلف میدان شامل ہیں۔

جنوری کے اواخر میں فارسی زبان کو شام کے تعلیمی نصاب میں دوسرے اختیاری مضمون کے طور پر شامل کیا گیا تھا۔ اس سے چار سال قبل روسی زبان کو تعلیمی نصاب میں شامل کیا جا چکا ہے۔

روس اور ایران کے درمیان دیگر اہم سیکٹروں میں بھی مسابقت جاری ہے۔ ان میں سیاست، معیشت اور زمین پر عسکری نفوذ شامل ہے۔

روسی خارجہ امور کی ماہر اور سیاسی تجزیہ کار موہدان سیگلم کے مطابق ماسکو اور تہران آستانہ مذاکرات کے واسطے سے ایک دوسرے کے ساتھ تعاون کر رہے ہیں۔ ان دونوں کے اپنے طور پر شامی حکومت کے ساتھ مضبوط تعلقات ہیں۔ تاہم یہ دونوں ممالک بعض فوری حکمت عملیوں کے حوالے سے اختلاف رکھتے ہیں۔

العربیہ ڈاٹ نیٹ سے گفتگو کرتے ہوئے موہدان نے مزید کہا کہ مسابقت کی صورت حال کے باوجود یہ ان دونوں کے تعلقات پر بہت زیادہ اثر انداز نہیں ہو گی۔ بالخصوص جب کہ اختلافی حکمت عملی کا تعلق قصیر المدت اقتصادی مفادات سے ہے۔ اسی واسطے روس اور ایران کے بیچ شام اور اس کے موجودہ صدر کے مستقبل کے حوالے سے اتفاق رائے پایا جاتا ہے۔

خاتون تجزیہ کار کے مطابق ماسکو اور تہران دونوں ہی اپنے مفادات اور مقاصد کے حصول کے لیے شام میں مقامی جماعتوں کو استعمال کر رہے ہیں۔ بالآخر دونوں ہی فریق ایک دوسرے کو عائتیں پیش کرنے پر مجبور ہوں گے۔

ادھر روسی اکیڈمک اور سیاسی تجزیہ کار اکبال درہ کا کہنا ہے کہ روس اور ایران کے درمیان شام میں مسابقت کا پہلو طویل عرصے سے موجود ہے۔ یہاں تک کہ سابق سوویت یونین کے دور میں بھی ماسکو اور تہران مختلف میدانوں بالخصوص معاشی شعبے میں ایک دوسرے کے حریف رہے ہیں۔ اگرچہ دونوں ہی دمشق اور صدر بشار کے حلیف ہیں تاہم تہران نے زمینی طور پر زیادہ نمایاں عسکری کردار ادا کیا جس کے سبب آج فریقین کے بیچ شدید مسابقت نظر آ رہی ہے۔

العربیہ ڈاٹ نیٹ سے گفتگو کرتے ہوئے اکبال کا کہنا تھا کہ "شام میں اسرائیلی حملوں کے حوالے سے روس کی خاموشی، مقبوضہ گولان کی پہاڑیوں کے حوالے سے ماسکو کا موقف، تہران کی ہمنوا بعض مسلح جماعتوں کی شام کے صوبے لاذقیہ میں موجودگی کی کوششیں ،،، یہ سب وہ امور ہیں جن سے فریقین کے بیچ اقتصادی، عسکری اور سیاسی وجوہات کی بنا پر مسابقت کی شدت میں اضافہ ہوا۔ البتہ اکبال نے ساتھ ہی واضح کیا کہ ماسکو اور تہران کے درمیان متفقہ امور ان کی موجودہ مسابقت سے زیادہ ہیں۔ مثلا فریقین شام سے امریکا کے زیر قیادت بین الاقوامی اتحاد کے انخلا اور شدت پسند تنظیموں کے خلاف لڑنے پر اتفاق رائے رکھتے ہیں۔

اکبال کے مطابق کردوں کے حوالے سے موقف میں بھی روس اور ایران کا اختلاف نہیں۔ اگرچہ ماسکو کردوں کی خود مختاری یا ثقافتی حقوق کی حصولی کا مخالف نہیں لیکن وہ اور تہران کردوں کو شام مں امریکی وجود کے لیے بنیادی سہارے کے طور پر دیکھتے ہیں۔

روسی تجزیہ کار کے مطابق ایران اور روس شام کے صوبے ادلب کے مستقبل کے حوالے سے مختلف مواقف رکھتے ہیں۔ ایسا لگتا ہے کہ تہران روس کی انقرہ کے ساتھ توازن کی رعائت پر چراغ پا ہے تاہم ماسکو اپنی سرزمین پر تقریبا 15% مسلمانوں کو بھی سامنے رکھتا ہے۔ یہ ایک اچھا تناسب ہے جس پر ترکی اثر رکھتا ہے۔

ماسکو نے طرطوس کی بندرگاہ میں سرمایہ کاری اور لاذقیہ صوبے میں فوجی اڈہ قائم کرنے کے بعد شام میں ساحلی علاقوں پر بنیادی طور پر توجہ دی۔ ادھر تہران نے شام اور عراق کی سرحد کے نزدیک اپنے وجود پر زور دیا۔ علاوہ ازیں اسرائیل کے ساتھ شامی سرحد کے قریب بھی اپنی موجودگی کو مضبوط بنایا۔