.
کرونا وائرس

طبی عملے کی مجرمانہ غفلت، کرونا مریض آکسیجن نہ ملنے کے باعث دم توڑ گیا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

تونس میں سوشل میڈیا پروائرل ہونے والی ایک ویڈیو میں کرونا کے شکار ایک مریض کو آکسیجن نہ ملنے پر سرکاری اسپتال کے باہر بے سروسامانی کے عالم میں دم توڑتے دیکھا جاسکتا ہے۔ اس واقعے نے تونس کے عوامی حلقوں میں حکومت کے خلاف شدید غم وغصے کی لہر پیدا کی ہے۔ شہریوں نے طبی عملے کو اس واقعے کا ذمہ دار قرار دیتے ہوئے اس کی فوری تحقیقات اور ذمہ داروں کے خلاف سخت کارروائی کا مطالبہ کیا جا رہا ہے۔

کرونا کا شکار شہری کے سر راہ دم توڑنے کا یہ واقعہ وسطی گورنری القیروان میں پیش آیا۔ تفصیلات کے مطابق ایک مقامی شہری جو پولیس میں ملازم تھا کو تکلیف کے بعد اسپتال لایا گیا جہاں اس کا کرونا کا معائنہ کرنے پر وہ کرونا کا شکار نکلا۔

کرونا سے فوت ہونے والے شہری کی چچا زاد یسریٰ نے العربیہ ڈاٹ نیٹ کو بتایا کہ ان کے چچا زاد پولیس میں ملازم تھے۔ انہیں کرونا کی وجہ سے حالت بگڑنے کے بعد اسپتال لایا گیا۔ پہلے انہیں السبیخہ شہر کے ایک مقامی اسپتال منتقل کیا گیا جہاں سے ابن الجزار اسپتال لایا گیا۔ ابن الجزار اسپتال کی انتظامیہ نے لاپرواہی کا مظاہرہ کرتے ہوئے کہا کہ مریض کو آکسیجن لگانے کی ضرورت نہیں۔ انہوں نے مریض کو اسپتال سے نکال دیا۔ وہ جیسے اسپتال کے باہر پہنچا تو اس کی حالت بگڑ گئی اور وہ زمین پر گر پڑا اور کچھ دیر تڑپنے کے بعد دم توڑ گیا۔

یسریٰ نے بتایا کہ کرونا سے فوت ہونے والے شہری نے اپنی زندگی بچانے کے لیے اسپتال انتظامیہ سے باربار مدد کی اپیل کی مگر اس کی فریاد نہیں سنی گئی۔ انہوں نے اپنے چچا زاد کی کی موت کی ذمہ داری اسپتال انتظامیہ پرعاید کرتے ہوئے ان کے خلاف فوری کارروائی کا مطالبہ کیا ہے۔

خیال رہے کہ تونس اس وقت کرونا کی چوتھی لہر کا سامنا کر رہا ہے۔ تیونس کے اسپتال کرونا کے مریضوں سے اس وقت بھی بھرے ہوئے ہیں۔ اتوار تک تونس میں کرونا کے مصدقہ مریضوں کی تعداد 4 لاکھ سات ہزار تک پہنچ گئی تھی۔ ان میں 14 ہزار 700 مریض فوت ہوچکے ہیں جب کہ 3 لاکھ 47 ہزار صحت یاب ہوئے ہیں۔