.

20 برسوں پر محیط مشن مکمل کرنے کے بعد جرمن فوج کی افغانستان سے واپسی

فوج کی واپسی سے ایک تاریخی باب بند ہوا: جرمن وزیر دفاع

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

جرمنی نے افغانستان سے فوجی انخلا مکمل کر لیا ہے اور اس انخلا کو تاریخ کے ایک باب کے اختتام سے تعبیر کیا ہے۔

جرمن وزیرِ خارجہ اینگریٹ کم کیرنباوا نے بدھ کو ایک بیان میں کہا ہے کہ افغانستان میں لگ بھگ 20 برس کی تعیناتی کے بعد وہاں موجود ہمارے آخری فوجی دستے نے واپسی کا سفر شروع کر دیا ہے۔

افغانستان کے شمالی شہر مزار شریف کی فوجی بیس سے منگل کی شام جرمن فوجیوں نے دو اے-400 ایم ایس اور دو سی-17 ایس طیاروں کے ذریعے واپسی کا سفر شروع کیا۔

جرمن وزیرِ خارجہ نے کہا کہ افغانستان سے انخلا سے تاریخ کے ایک باب کا خاتمہ ہوا ہے۔ ان کے بقول، افغانستان میں فوج کی تعیناتی کے دوران اہلکاروں نے اپنی پیشہ ورانہ صلاحیتوں کا لوہا منوایا۔

جرمن وزیرِ خارجہ نے اپنے ایک ٹوئٹ میں ان تمام ڈیڑھ لاکھ مرد و خواتین فوجی اہلکاروں کی خدمات کو سراہا جو 2001 سے افغانستان میں خدمات پیش کر رہے تھے۔ انہوں نے کہا کہ جرمن فوجی اپنی خدمات پر فخر کر سکتے ہیں۔

اینگریٹ کم کیرنباوا نے افغان جنگ کے دوران ہلاک و زخمی ہونے والے فوجیوں کو خراجِ تحسین پیش کیا اور کہا کہ آپ کو کبھی نہیں بھلایا جائے گا۔

جرمن فوج کے مطابق افغان جنگ کے دوران 2001 کے بعد سے اب تک 59 جرمن فوجی ہلاک ہوئے۔

یکم مئی 2021 سے شروع ہونے والے غیر ملکی افواج کے انخلا سے قبل افغانستان میں جرمن فوجیوں کی تعداد 1100 تھی جو مغربی ملکوں کے فوجی اتحاد (نیٹو) میں شامل ملکوں میں ایک بڑا معاون تھا۔

نیٹو میں شامل دیگر ملکوں میں ڈنمارک، اسپین اور ایسٹونیا پہلے ہی انخلا کا عمل مکمل کر چکے ہیں۔ البتہ برطانیہ، اٹلی اور ترکی کے فوجیوں کی بڑی تعداد وہاں موجود ہے۔

یاد رہے کہ امریکہ کے صدر جو بائیڈن نے 11 ستمبر 2021 تک افغانستان سے مکمل فوجی انخلا کا اعلان کر رکھا ہے۔ تاہم، جس رفتار سے فوجیوں کی واپسی کا عمل جاری ہے اس سے متعلق قیاس آرائی کی جا رہی ہے کہ صدر بائیڈن امریکہ کے یومِ آزادی (چار جولائی) سے قبل تمام فوجیوں کی واپسی چاہتے ہیں۔