.

امریکا کو عراق اور افغان جنگوں میں الجھانے والے رمز فیلڈ انتقال کر گئے

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

امریکا کو عراق اور افغانستان کی تباہ جنگوں میں الجھانے والے سابق وزیر دفاع ڈونلڈ رمز فیلڈ 88 سال کی عمر میں انتقال کر گئے ہیں۔اس امر کا اعلان سابق امریکی وزیر دفاع کے اہلخانہ نے بدھ کے روز کیا۔

شگاگو میں پیدا ہونے والے ڈونلڈ رمز فیلڈ نے کم عمری میں ہی اپنی جنگجوانہ طبعیت کا مظاہرہ کیا اور ایک پہلوان بن گئے۔ جب وہ پرنسٹن یونیورسٹی میں تھے تو امریکی فٹ بال ٹیم میں دفاعی پوزیشن میں کھیلتے تھے۔

انہوں نے صرف 30 سال کی عمر میں کانگریس میں منتخب ہونے سے قبل سرد جنگ کے ابتدائی ایام میں بحریہ میں پائلٹ اور فلائٹ انسٹرکٹر کی حیثیت سے خدمات انجام دیں۔

ایلی نوائے کی نمائندگی کرنے والے ڈونلڈ رمز فیلڈ ابتدا میں اپنے ماڈرن خیالات اور افریقی نژاد امریکیوں کے شہری حقوق کے اقدامات کی حمایت کے لیے جانے جاتے تھے۔ لیکن جلد ہی ان کی توجہ فوجی امور کی طرف مبذول ہوگئی اور انہیں ویتنام جنگ کے انعقاد کے حوالے سے شدید تشویش ہوئی۔

وہ سنہ 1975 میں 43 سال کی عمر میں وزیر دفاع بننے والے سب سے کم عمر فرد تھے اور جب انہوں نے جارج ڈبلیو بش کے دور میں عہدہ سنبھالا تو وہ سب سے عمر رسیدہ تھے۔

ضدی اور خودنما امریکی وزیر دفاع

ڈونلڈ رمز فیلڈ نہائیت ضدی اور خود نمائی کے مرض میں مبتلا تھے۔انہوں نے امریکی فوجیوں کے بغداد پر قبضے کے بعد وسیع پیمانے پر ہونے والی لوٹ مار کو مسترد کرتے ہوئے طنزاً کہا تھا کہ ’ایسی چیزیں ہو جاتی ہیں۔‘

عراق کی جنگ کی مذمت کے لیے سڑکوں پر نکلنے والے لاکھوں افراد کے لیے ڈونلڈ رمزفیلڈ اور نائب صدر ڈک چینی، جارج بش کی ’دہشت گردی کے خلاف جنگ‘ میں ہونے والی زیادتیوں کی علامت تھے، جن میں گوانتانامو بے میں مشتبہ افراد کی غیر معینہ مدت تک نظر بندی اور ابو غریب جیل میں امریکی جیلروں کی عراقیوں کے ساتھ بدسلوکی بھی شامل ہے۔

سابق امریکی صدر جارج ڈبلیو بش نے اپنے وزیر دفاع کو، جنہیں انہوں نے کابینہ کا تب تک حصہ بنائے رکھا جب تک سنہ 2006 میں ڈیموکریٹس نے کانگریس میں اکثریت نہیں حاصل کر لی، ’ایک مثالی سرکاری ملازم اور بہت اچھا انسان قرار دیا ہے۔‘

ڈونلڈ رمزفیلڈ نے افغانستان میں طالبان حکومت کے خاتمے کے ساتھ ہی عراقی آمر صدام حسین کو ہٹانے کا مطالبہ کیا تھا اور عراق میں فوجی کارروائی پر زور دیا تھا، جہاں ان کے خیال میں بڑے پیمانے پر تباہی پھیلانے والے ہتھیار تھے اور شاید (صدام حسین) دہشت گرد گروہوں سے رابطے تھے۔

سنہ 2002 میں جب ان سے اس حوالے سے ثبوتوں کی عدم موجودگی کا پوچھا گیا تو ڈونلڈ رمزفیلڈ نے شاید اپنا یادگار بیان دیا۔

انہوں نے کہا تھا کہ ’ایسی رپورٹس جو کہتی ہیں کہ کچھ نہیں ہوا ہے وہ ہمیشہ میرے لیے دلچسپ ہوتی ہیں۔ کیونکہ جیسا کہ ہم جانتے ہیں اس پر ہمیں اعتماد ہے: ایسی چیزیں ہیں جو ہم جانتے ہیں کہ ہم جانتے ہیں۔‘

ڈونلڈ رمزفیلڈ امریکہ کی تاریخ میں سب سے مدت کے لیے وزیر دفاع رہنے والوں میں سے ایک ہیں۔ وہ جارج ڈبلیو بش اور ان سے 20 سال پہلے جیرالڈ فورڈ کے دور صدارت میں سات سال سے زائد عرصہ تک وزیر دفاع رہے۔