.

تونسی پارلیمنٹ میں خاتون رکن عبیر موسی پر مرد ارکان کا تشدد

راشد الغنوشی نے پارلیمنٹ میں میرا داخلہ روکنے کے لوگ ’بھرتی‘ کر رکھے ہیں: عبیر موسی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

تونس کی حکومت نے فری کانسٹیٹی ٹیوشنل پارٹی کی خاتون سربراہ عبیر موسیٰ پر ایوان کے اندر تشدد کی مذمت کی ہے۔ حکومت نے ایک بیان میں کہا ہے کہ ایوان کے اندر کوئی بھی کسی بھی وجہ سے جسمانی یا لفظی تشدد کی راہ اپنائے گا تو ہم اس کی مذمت کریں گے۔ اس روش سے باز رہنا چاہے۔

یاد رہے کہ عبیر موسی ایک دن میں اپنے ساتھی ارکان کے ہاتھوں دو مرتبہ تشدد کا نشانہ بنی ہیں۔

گذشتہ شام رکن پارلیمان سیف الدین مخلوف نے ان کے چہرے پر تھپڑ مارے، گالیاں اور دھمکیاں دے کر ان کی توہین کی جبکہ اس کے بعد علی الصباح ایک اور رکن پارلیمان الصبحی صمارہ نے ان پر ایسا ہی تشدد کیا۔

ایمبولینس منگوانے کا مطالبہ

عبیر موسیٰ تھپڑ کھانے کے بعد درد کی شدت سے رونے لگی اور انھوں نے ایوان کے ڈاکٹر سے کہا کہ وہ ایمبولینس منگوا لیں۔ انھوں نے خود پر حملہ کرنے والوں ساتھی ارکان پارلیمان کو ’مجرم‘ قرار دیا۔
ادھر تونس کی حکومت نے ایوان میں فری کانسٹیٹی ٹیوشنل پارٹی کی خاتون رہنما عیبر موسیٰ پر تشدد کے دو الگ الگ واقعات کی مذمت کی۔

عبیر موسیٰ نے ایوان میں دوسری مرتبہ تشدد کا نشانہ بننے سے قبل ’’العربیہ‘‘ سے خصوصی گفتگو کرتے ہوئے قائد ایوان راشد الغنوشی پر الزام عاید کیا تھا کہ انھوں نے ایسے لوگ بھرتی کر رکھے ہیں جنہیں میرے ایوان میں داخلے کا راستہ بند کرنے کی ذمہ داری سونپی گئی ہے۔ انھوں نے راشد الغنوشی کو فساد کی جڑ قرار دیا۔

’’تونسی ایوان میں تشدد نیا نہیں‘‘

پارلیمنٹ کے سامنے کھڑے ہو کر انھوں نے بتایا کہ راشد الغنوشی کے ایما پر ان کا اس ایوان میں راستہ روکا جاتا ہے۔ اس پارلیمںٹ میں تشدد کوئی نئی بات نہیں۔
عبیر موسی کا کہنا تھا کہ وہ پارلیمنٹ میں خود پر ہونے والے تشدد اور حملوں کے باوجود اپنا کام جاری رکھیں گی۔ انھوں نے کہا کہ سارے ڈرامے کی ڈوریں راشد الغنوشی کے ہاتھ میں ہیں۔
انھوں نے تونسی عدلیہ کو بھی ساری صورت حال دیکھتے ہوئے خاموش رہنے پر تنقید کا نشانہ بنایا۔ ایسا لگتا ہے کہ تونس باقاعدہ تشدد اور دہشت گردی کا سرپرست ملک بن چکا ہے۔

’’الغنوشی وبا کا فائدہ اٹھا رہے ہیں‘‘

عبیر موسی نے اپنے سیاسی حریف اور حکمران جماعت النھضہ کے سربراہ راشد الغنوشی کو کڑی تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ وہ اس وقت کرونا وائرس کی عالمی وبا کا فائدہ اٹھا رہے ہیں۔ ملک میں کرونا کے بڑھتے ہوئے کیسز سے حالات دگرگوں ہیں جس کی وجہ سے لوگ ان کے خلاف سڑکوں پر نکلنے سے قاصر ہیں۔

تشدد کی ویڈیو

بدھ کے روز ایک آزاد رکن پارلیمنٹ الصبحی صمارہ نے عبیر موسی پر ایوان کے اندر تشدد کیا۔ تشدد کی کارروائی سے متعلق سامنے آنے والی ویڈیوز میں صمارہ کو عبیر کی جانب بڑھتے دیکھا جا سکتا ہے کہ جو ایوان میں اپنے فون کے ذریعے کارروائی یا اپنی تقریر کی لائیو اسٹریمنگ کر رہی تھیں۔ الصبحی صمارہ نے انہیں ایسا کرنے سے منع کیا اور اگلے ہی لمحے انھوں نے پوری قوت سے عیبر کے سر پر مکا دے مارا اور تھپڑوں کی بارش کر دی۔ بعد ازاں ساتھی ارکان پارلیمان نے دونوں کے درمیان بیچ بچاؤ کرایا۔

ایوان مچھلی منڈی بن گیا

اس واقعہ کے بعد ایوان مچھلی منڈی بن گیا۔ کان پڑی آواز سنائی نہ دیتی تھی جس کے بعد اسپیکر نے کارروائی ملتوی کرنے کا اعلان کر دیا۔ عبیر موسی کی جماعت کے ارکان نے دو روز سے اسپیکر کے پوڈیم کے سامنے دھرنا دے رکھا ہے جس کی وجہ سے ایوان کی کارروائی مسلسل ملتوی ہوتی آ رہی ہے۔ مظاہرین کا مطالبہ ہے کہ تونس میں قطری ڈیولپمنٹ فنڈ کا دفتر قائم کرنے کی اجازت نہ دی جائے۔