.

سعودی عرب کووِڈ-19 کی ویکسینوں کی پیداوار کا علاقائی مرکز بننے کو تیار

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

سعودی عرب کروناوائرس کی ویکسینوں کی پیداوار کا علاقائی مرکزبننے کو تیار ہے۔یہ بات شاہ سلمان انسانی امداد اور ریلیف مرکز(کے ایس ریلیف) کے نگران اعلیٰ عبداللہ الربیعہ نے کہی ہے۔انھوں نے کہا کہ سعودی عرب مشرقِ اوسط ، افریقا اورایشیا میں متعلقہ صنعتوں کو علاقائی رنگ دینے کی حوصلہ افزائی کرتا ہے۔

انھوں نے کہا کہ’’ویکسینوں کی علاقائی سطح پر پیداوار اور ادویہ کی سپلائی سے روزگارکے نئے مواقع پیدا ہوں گے۔اس سے حفظانِ صحت کے نظاموں کی ویکسین کی تقسیم اورترسیل کو بہتر بنانے کی صلاحیت میں بھی اضافہ ہوگا۔‘‘

ڈاکٹرعبداللہ الربیعہ نے کہا کہ’’سعودی عرب اسپتالوں کے عملہ اورعام لوگوں کے لیے ذاتی تحفظ کے آلات، وینٹی لیٹرز،طبّی مقاصد کے لیے گیس اور دوسری ادویہ مہیا کرسکتا ہے۔‘‘

ان کا کہنا تھا کہ ’’ویکسین اور طبّی آلات کی ترسیل میں عدم مساوات سے دنیا کے دسیوں ممالک کروناوائرس کی وبا پرقابو پانے میں ناکام رہے ہیں۔تمام ممالک کی کرونا وائرس کی ویکسینوں تک رسائی سے کووِڈ-19 پرقابو پانے میں مدد مل سکتی ہے۔مستقبل میں ایسی کسی وبا پر قابو پانے کے لیے کووِڈ-19 سے حاصل ہونے والے سبق سے سیکھنا ضروری ہے۔‘‘

ڈاکٹرعبداللہ الربیعہ کے مطابق سعودی عرب نے عالمی سطح پر کرونا وائرس کی وبا پر قابو پانے کے لیے 71 کروڑ30 لاکھ ڈالرامداد کے طورپرمہیا کیے ہیں۔مملکت نے گاوی، کوویکس اور سی ای پی آئی ایسے پروگراموں کے لیے رقوم مہیا کی ہیں۔

انھوں نے بتایا کہ ’’کے ایس ریلیف نے یمن ، شام اور سوڈان ایسے ممالک کو الگ سے بھی مالی امداد مہیا کی ہے۔اس کے علاوہ بعض ممالک کو کسی تیسرے ملک کے ذریعے امدادی سامان مہیا کیا ہے۔اس نے دنیا بھر میں مہاجرین کو امداد بہم پہنچائی ہے۔بنگلہ دیش میں روہنگیا مہاجرین ،اردن اور لبنان میں شامی مہاجرین،ایشیا ،افریقا اور مشرقِ اوسط میں دوسرے مہاجر گروپوں کو بھی کرونا وائرس کی وبا سے نمٹنے کے لیے امدادی سامان مہیّا کیا ہے۔‘‘

کے ایس ریلیف کے سربراہ نے دنیا کے دوسرے ملکوں پر بھی زوردیا ہے کہ وہ عالمی وباؤں سے نمٹنے کے لیے مالی امداد مہیا کریں کیونکہ کوئی بھی ملک کووِڈ-19 ایسی بیماریوں کے خطرے سے مستقبل میں محفوظ نہیں ہوگا۔