.

یمن میں 2015ء سے اب تک حوثیوں کے ہاتھوں 46 صحافی قتل اور ہزاروں اپنے کام سے محروم

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

یمن میں مقامی صحافیوں کی انجمن کے مطابق 2015 سے جون 2021ء تک حوثی ملیشیا کے ہاتھوں 46 صحافی اور کیمرہ مین اپنی زندگیوں سے ہاتھ دھو بیٹھے جب کہ ایک ہزار اپنے کام سے محروم ہوئے۔

محمدعیسی
محمدعیسی

یہ بات جمعرات کے روز یمنی صحافیوں کی انجمن کی کونسل کے رکن نبیل الاسیدی نے جنیوا میں بتائی۔ الاسیدی اور ان کے ساتھ انسانی حقوق کے متعدد کارکنان نے انسانی حقوق کونسل میں آزادی رائے اور آزادی اظہار سے متعلق ایک خصوصی گروپ سے ملاقات کی۔ ملاقات کا مقصد یمنی صحافیوں کے خلاف حوثی ملیشیا کی سنگین خلاف ورزیوں کو زیر بحث لانا تھا۔ ان خلاف ورزیوں میں قتل، جبری حراست، گرفاریاں، جبری روپوشی، املاک کی ضبطی اور سرکاری اور نجی ٹی وی چینلوں ، ریڈیو اسٹیشنوں ، اخبارات اور خبری ویب گاہوں کی بندش شامل ہے۔

الاسیدی نے زور دیا کہ انسانی حقوق کونسل کی جانب سے جاری کی جانے والی آزادی رائے اور آزادی اظہار سے متعلق رپورٹ میں یمن میں صحافیوں کے خلاف حوثی ملیشیا کی سنگین کارستانیوں کو بھی شامل کیے جانے کی ضرورت ہے۔

وحید صوفی
وحید صوفی

الاسیدی کے مطابق حوثی ملیشیا نے 4 یمنی صحافیوں کو موت کے گھاٹ اتار دینے کے احکامات جاری کیے ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ حوثی ملیشیا کی جانب سے 300 سے زیادہ خبری ویب گاہوں کو بند کر دیا گیا۔ مزید یہ کہ صنعاء میں صحافیوں کو نظر بند بھی کیا گیا ہے۔