.

ایران کے بوشہرمیں واقع واحد جوہری پاور پلانٹ میں پیداواری سرگرمیاں بحال

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

ایران کے بوشہرمیں واقع واحد جوہری پاورپلانٹ نے دوبارہ کام شروع کردیا ہے۔اس کو دوہفتے قبل ضروری مرمت کے لیے ہنگامی طور پر بند کردیا گیا تھا۔

ایران کے سرکاری میڈیا نے ہفتے کے روز وزارت توانائی کے ترجمان مصطفیٰ رجبی مشہدی کے حوالے سے بتایا ہے کہ بوشہر پلانٹ نے ضروری مرمت مکمل ہونے کے بعد توانائی کی پیداوار دوبارہ شروع کردی ہے۔

مشہدی نے یہ نہیں بتایا ہے کہ پلانٹ میں کیا خرابی پیداہوئی تھی لیکن گذشتہ ہفتے ایران کی الیکٹرک توانائی کمپنی نے بتایا تھا کہ انجنیئر پلانٹ کے خراب جرنیٹر کی مرمت کا کام کررہے ہیں۔

ایران کی سرکاری الیکٹرک انرجی کمپنی کے ایک عہدہ دار غلام علی رخشانی مہر نے 19 جون کو بتایا تھا کہ ’’بوشہرپاورپلانٹ کو عارضی طور پر بند کیا گیا ہے اور بندش کا یہ سلسلہ آیندہ تین سے چار روز تک جاری رہے گا۔‘‘

یہ پہلا موقع تھا کہ ایران نے جنوبی شہر بوشہر میں واقع اپنے اس واحد جوہری پاورپلانٹ کی بندش کی اطلاع دی تھی۔واضح رہے کہ روس کی مدد سے اس پاورپلانٹ نے 2011ء میں بجلی کی پیداوار شروع کی تھی۔

اس پاورپلانٹ کو ایران کے بجائے روس ہی میں تیار کردہ یورینیم سے چلایا جاتا ہے اور اقوام متحدہ کے تحت جوہری توانائی کا عالمی ادارہ (آئی اے ای اے) اس کی سرگرمیوں کی نگرانی کرتا ہے۔

ایران کے جوہری ادارے کے ایک عہدہ دار محمود جعفری نے مارچ میں یہ اطلاع دی تھی کہ اس پلانٹ کو بند کیا جاسکتا ہے کیونکہ ایران امریکا کی 2018ء میں اپنے بنکوں پرعاید کردہ پابندیوں کے نتیجے میں روس سے اس پلانٹ کو چلانے کے لیے درکارآلات اورضروری سامان نہیں خرید سکا ہے۔

یادرہے کہ خلیج عرب کے شمال میں واقع بوشہرمیں ایران کے سابق شاہ رضا پہلوی کے دورمیں 1970ء کے عشرے کے وسط میں اس جوہری پاور پلانٹ کی تعمیر شروع ہوئی تھی۔1980ء کے عشرے میں ایران، عراق جنگ کے دوران میں اس پلانٹ کو متعدد مرتبہ حملوں میں نشانہ بنایا گیا تھا اور اس کے بعد روس نے اس کی تعمیر مکمل کی تھی۔