.

بھارت بائیوٹیک کا اپنی ساختہ’کوویکسین‘ کے 93۰4 فی صد تک مؤثرہونے کا دعویٰ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

ہندستان کی دواساز فرم بھارت بائیو ٹیک نے دعویٰ کیا ہے کہ اس کی ساختہ کووِڈ-19 کی ویکسین کلینکی جانچ کے تیسرے مرحلے میں کروناوائرس کی تمام شدید علامات کے مقابلے میں 93۰4 فی صدتک مؤثر ثابت ہوئی ہے۔ان نتائج سے ملک میں ’کوویکسین‘ پر لوگوں کے اعتماد میں اضافہ ہوگا۔

اس دواساز فرم کے ڈیٹا کے مطابق ’کوویکیسن‘ کرونا وائرس کی نئی شکل ڈیلٹا سے 65۰2 فی صد تک تحفظ مہیا کرتی ہے۔ڈیلٹا قسم کی بھارت ہی میں سب سے پہلے تشخیص ہوئی تھی۔اس کے پھیلنے کے بعد اپریل اور مئی میں کووِڈ-19 کے مریضوں کی یومیہ تعداد اور ہلاکتوں میں بھی نمایاں اضافہ ہوا تھا۔

گذشتہ ماہ برطانیہ کی دوا سازکمپنی آسٹرازینیکا نے بھی ایک مطالعے کے نتائج کی بنیاد پر یہ کہا تھا کہ اس کی ویکسین کروناوائرس کی نئی شکلوں ’ڈیلٹا‘ اور’کپا‘ کے مقابلے میں مؤثرہے۔

بھارت میں اس وقت کروناوائرس سے بچاؤ کے لیے آسٹرازینیکا کی ویکسین لگائی جارہی ہے لیکن یہ بھارت ساختہ ہی ہے اور اس کو بھارت کے سیرم انسٹی ٹیوٹ میں تیار کیا جارہا ہے۔

اس دواساز فرم نے گذشتہ ماہ یہ اعلان کیا تھا کہ اس نے جولائی سے ویکسین کی اپنی ماہانہ پیداوار بڑھانے کا منصوبہ تیار کر لیا ہے اور ایک ماہ میں ویکسین کی قریباً 10 کروڑ خوراکیں تیار کی جائیں گی۔

بھارت بائیوٹیک کا کہنا ہے کہ وہ اپنی کوویکسین کی ایک ماہ میں دوکروڑ 30 لاکھ خوراکیں تیار کرے گی۔اس کی ویکسین کے تیسرے مرحلے کی جانچ کا ڈیٹا ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب اس کی شراکت دار فرم آکوجین نے کہا ہے کہ وہ امریکا میں ویکسین کی مکمل منظوری کے لیے درخواست دائر کررہی ہے۔یہ فرم بھارت بائیوٹیک کے اشتراک سے امریکا کی مارکیٹ کے لیے کوویکسین تیار کررہی ہے۔

واضح رہے کہ بھارت میں اب تک کروناوائرس کے تین کروڑ ساڑھے چارلاکھ کیسوں کی تشخیص ہوچکی ہے۔ان میں سے چار لاکھ مریض ہلاک ہوچکے ہیں۔ بھارت امریکا کے بعد دنیا میں کروناوائرس سے متاثرہ دوسرا بڑا ملک ہے۔امریکا میں کروناوائرس سے تین کروڑ تیس لاکھ افراد متاثر ہوئے ہیں۔