.

شام : آن لائن شادیاں اور منتقل رقوم الہول کیمپ کی داعشی خواتین کے فرار کا راستہ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

شام کے شمال مشرق میں واقع الہول کیمپ نے ابھی تک بین الاقوامی حلقوں کو اپنی جانب متوجہ کیا ہوا ہے۔ داعش تنظیم کی باقیات اس کیمپ میں موجود ہے۔ متعدد رپورٹوں میں کہا گیا ہے کہ داعشی ارکان اپنی صفوں کی از سر نو تنظیم کے لیے الٹی گنتی شروع کر چکے ہیں۔ اس کے نتیجے میں ایک بار پھر دہشت گردی کے حوالے سے اندیشے سر اٹھا رہے ہیں۔

گذشتہ ماہ اس طرح کی معلومات سامنے آئی تھیں کہ الہول کیمپ (جسے داعش تنظیم کی شکست کے بعد بچوں اور خواتین کے ٹھکانے کے طور پر بنایا گیا تھا) اپنے بنیادی مشن سے ہٹ کر "داعش تنظیم کی ایک چھوٹی خلافت" میں تبدیل ہو چکا ہے۔ یہاں داعش کی خواتین رہ نما شدت پسند تنظیم کے نظریات کی پاسبانی کر رہی ہیں اور مالی رقوم کے انتظامات کے ذریعے داعش کے نظریات کو زندہ رکھنے کی کوششوں میں مصروف ہیں۔ ایسی معلومات بھی ہیں کہ کیمپ میں موجود داعش تنظیم سے متعلق بعض خواتین انٹرنیٹ کے ذریعے اپنے شوہروں کے ساتھ رابطے میں ہیں۔ ان خواتین کی جانب سے رشوت کی ادائیگی کے بعد انہیں کیمپ سے فرار کرا دیا گیا۔

برطانوی اخبار "دی گارڈین" کی رپورٹ کے مطابق مذکورہ خواتین نے انٹرنیٹ کے ذریعے مردوں سے عطیات طلب کیے۔ اس کا مقصد اپنے فرار کی کوششوں کے لیے مالی رقوم فراہم کرنا یا پھر کیمپ میں اپنا معیار زندگی بہتر بنانا تھا۔ اس طرح کی خبریں گردش میں ہیں کہ بعض مرتبہ کیمپ سے فرار ہونے کے اخراجات 15 ہزار امریکی ڈالر تک پہنچ جاتے ہیں۔

رپورٹ کے مطابق کیمپ کی ان خواتین کی باہر کے مردوں کے ساتھ شادی بعض مرتبہ "ورچوئل" صورت سے زیادہ آگے نہیں جاتی ہے۔ البتہ بعض مردوں کا بظاہر اس ڈیل کا مقصد یہ ہوتا ہے کہ وہ شدت پسند ویب سائٹوں پر داعشی بیگم ہونے پر گھمنڈ کا اظہار کر سکیں۔ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ بعض "شادیاں" ٹیلی فون کے ذریعے انجام پاتی ہیں۔

مخيم الهول (فرانس برس)
مخيم الهول (فرانس برس)

واضح رہے کہ عرااقی حکومت کئی ماہ سے اس بات کے لیے کوشاں ہے کہ شمال مشرقی شام میں داعش تنظیم کے گھرانوں کے ٹھکانے "الہول کیمپ" سے آنے والے خطرے کو ختم کرنے کے لیے ایک مناسب طریقہ تلاش کیا جائے۔ مختلف حلقوں کی جانب سے اس بحران کو حل کرنے کا خیال مسترد کیا جا چکا ہے۔ اس کی وجہ شدت پسندوں کی واپسی سے متعلق اندیشے ہیں۔

گذشتہ ماہ ایک امریکی انٹیلی جنس اہل کار نے انکشاف کیا تھا کہ دہشت گرد تنظیم داعش کے سینئر کمانڈروں کی بیگمات کو الہول کیمپ سے شام کے شمالی صوبے اِدلب منتقل کر دیا گیا ہے۔ اس علاقے پر ترکی کے ہمنوا گروپوں کا کنٹرول ہے۔ مذکورہ امریکی انٹیلی جنس اہل کار الہول کیمپ کی ذمے دار کرد خود مختار فورسز کے عناصر کے ساتھ کام کرتا ہے۔

امریکی اخبار وال اسٹریٹ جرنل کی ایک رپورٹ کے مطابق الہول کیمپ سے فرار ہونے والے عناصر ایک بار پھر داعش تنظیم کی صلاحیت بنانے میں مرکزی کردار ادا کر رہے ہیں۔ ذرائع نے بتایا کہ تمام مفرور عناصر کہتے ہیں کہ وہ اپنے گھروں کو واپس جانا چاہتے ہیں مگر حقیقت یہ نہیں ہے۔ اصل میں یہ لوگ ادلب جانا چاہتے ہیں کیوں کہ داعش وہاں اپنی تنظیم نو انجام دے رہی ہے۔

اقوام متحدہ نے گذشتہ برس خبردار کیا تھا کہ داعش تنظیم الہول کیمپ سے فرار ہونے والوں کو یورپ میں اپنے گروپوں کو مضبوط بنانے کے واسطے استعمال کر رہی ہے۔

انسداد دہشت گردی کے بعض مغربی زمے داران کا کہنا ہے کہ الہول سے اسمگل کیے جانے والے بعض بچوں کو حملوں میں استعمال کرنے کے مقصد سے شام کے دیگر علاقوں اور عراق بھیجا گیا۔

یاد رہے کہ سیرین ڈیموکریٹک فورسز (ایس ڈی ایف) الہول کیمپ کی حفاظت کی ذمے دار ہے۔ ایس ڈی ایف ہمیشہ یہ شکوہ کرتی رہی ہے کہ کیمپ کو مناسب طور محفوظ بنانے کے لیے اس ے پاس مطلوبہ وسائل نہیں ہیں۔ مبصرین کے مطابق الہول کیمپ ایک چھوٹا شہر بن چکا ہے جس کی آبادی 62 ہزار سے زیادہ افراد پر مشتمل ہے۔ ان میں زیادہ تر افراد شام میں جنگ اور داعش تنظیم کے خلاف معرکوں کے سبب نقل مکانی پر مجبور ہوئے۔ ذرائع کے مطابق کیمپ میں موجود افراد کا تعلق تقریبا 60 ممالک سے ہے تاہم ان میں اکثریت عراقیوں کی ہے۔

رپورٹ کے مطابق زیادہ تر مغربی ممالک نے اپنے اُن شہریوں کی واپسی کو مسترد کر دیا ہے جو داعش تنظیم کے عروج کے دور میں شام منتقل ہو گئے تھے۔