.

عراق میں بجلی کے مرکزی نیٹ ورک پرحملے میں 7 افراد ہلاک11 زخمی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

کل ہفتے کے روز عراقی سرکاری میڈیا سیل نے کہا ہے کہ قومی بجلی کے نیٹ ورک پر حملوں میں سات افراد ہلاک اور کم سے کم گیارہ زکمی ہوگئے ہیں۔ ان حملوں میں بجلی کی 161 ٹرانسمیشن لائنوں کو نقصان پہنچا ہے۔

عراقی نیوز ایجنسی نے سرکاری میڈیا سیل کے حوالے سے بتایا ہے کہ وزارت بجلی کے حوالے سے گمراہ کن بیانات جاری کرکے عوام کو گمراہ کرنے کی کوشش کی گئی تاکہ بجلی کی تنصیبات پر حملوں میں ملوث عناصر کی حوصلہ افزائی کی جاسکے۔

اس سیل نے مزید کہا کہ بجلی کے وزارت کے انجینئرنگ اور تکنیکی شعبے کے ماہرین نے مستقل محنت کے بعد 16،000 میگا واٹ توانائی بحال کرنے میں کامیاب ہوئے ہیں۔

العربیہ چینل کے نامہ نگار کے مطابق مغربی عراق کے علاقے الانبارکے دو شہروں الحدیثہ اور القائم میں نامعلوم افراد نے ہفتے کی صبح جو پاور اسٹیشنوں پر حملہ کر کے انہیں تباہ کر دیا۔

نامہ نگار کے مطابق پاور اسٹیشنوں پر ہونے والے حملے کے نتیجے میں القائم اور الرمانہ کے علاقوں میں بجلی معطل ہو گئی۔

قبل ازیں ہفتے کی صبح عراق کے شہروں کرکوک اور موصل میں ہفتے کے روز ایک سے زاید مقامات پر بم دھماکے ہوئے ہیں جن میں دونوں شہروں میں بجلی کی سپلائی لائنوں کا نشانہ بنایا گیا ہے۔

اطلاعات کےمطابق شمالی عراق میں کرکوک کے قریب ہونے والے دھماکوں کے نتیجے میں ملا عبداللہ ٹرانسمیشن لائن متاثر ہوئی ہے جس کے نتیجے کرکوک کے نواحی علاقے الدبس اور اطراف کے مقامات اندھیرے میں ڈوب گئے ہیں۔

یہ تازہ دھماکے ایک ایسے وقت میں ہوئے ہیں جب کل جمعہ کی شام کو یہ اطلاعات آئی تھیں کہ بغداد آپریشن کمان نے بغداد کے بین الاقوامی ہوائی اڈے پر حملوں کی کوشش ناکام بنا دی ہے۔

بغداد میں آپریشن کمان کے سربراہ میجر جنرل احمد سلیم بھجت نے بتایا کہ عسکریت پسندوں نے بغداد کے بین الاقوامی ہوائی اڈے پر10 راکٹ داغے تاہم فیڈرل پولیس نے یہ حملے ناکام بنا دیے۔

ادھر عراق کی جوائنٹ آپریشن کمانڈ نے جمعہ کے روز بتایا کہ بجلی کے ٹاوروں کو نشانہ بنائے جانے کے واقعات کی تحقیقات کی جا رہی ہیں۔ ان حملوں کو روکنے کے لیے موثر اقدامات کیےگئے ہیں۔

جوائنٹ آپریشن کمانڈ کے ترجمان میجر جنرل تحسین الخفاجی نے بتایا کہ حملوں کی تحقیقات اور مزید حملوں کی روک تھام کے لیے وزارت بجلی کے ساتھ ایک مشترکہ کنٹرول روم قائم کیاگیا ہے۔ عراق کی تمام سیکیورٹی فورسز، عراقی فوج، وفاقی پولیس، الحشد الشعبی ملیشیا اور بجلی کے امور کی ذمہ دار پولیس کے اشتراک سے بجلی کی تنصیبات پرحملوں کی روک تھام کے لیے ورکنگ پلان بنایا جا رہا ہے۔

انہوں نے کہا کہ سیکیورٹی فورسز اپنے طے شدہ منصوبوں اور پروگرام کو ڈرون طیاروں، فضائیہ کے جنگی طیاروں، عراق کی فوج اور دوسرے اداروں کی مدد سے عملی جامہ پہنائیں گے۔

عراقی عہدیدار کا کہنا تھا کہ دہشت گرد گروپوں کی طرف سے ملک میں بجلی کی سپلائی لائنوں کو نشانہ بنائے جانے اور متاثرہ مقامات کی نشاندہی کی جا رہی ہے۔

الخفاجی نے شہریوں پر زور دیا کہ وہ دہشت گرد مافیا کے بارے میں معلومات کی فراہمی کے لیے سیکیورٹی اداروں کے ساتھ تعاون کریں۔