.

عراقی حزب اللہ بریگیڈز کی امریکا کو دھمکی

تہران کا مسلح گروپوں کے حملوں سے لا تعلقی کا اظہار

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

ایران نے اقوام متحدہ کے سامنے عراق میں اُن گروپوں کی سپورٹ سے لا تعلقی کا اعلان کیا ہے جن پر واشنگٹن الزام عائد کرتا ہے کہ وہ عراق میں امریکی فوجی اڈوں کو نشانہ بناتے ہیں۔ دوسری جانب ان مسلح گروپوں کی جانب سے ایک بار پھر امریکا کو دھمکی دی گئی ہے۔

عراقی حزب اللہ بریگیڈز نے اپنے نئے دھمکی آمیز بیان میں خبردار کیا ہے کہ امریکیوں کو اچانک جوابی کارروائی کا نشانہ بنایا جائے گا۔ اس حوالے سے تفصیلات بیان نہیں کی گئیں۔ ایرانی خبر رساں ایجنسی "فارس" نے اتوار کی رات بتایا کہ بریگیڈز کے سرکاری ترجمان محیی محمد نے عراق میں امریکیوں کی موجودگی کو غیر قانونی قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ امریکیوں کے خلاف اچانک کارروائی کی جائے گی۔

ترجمان نے مزید کہا کہ "مسلح گروپوں کا مشن عراق اور شام میں امریکیوں کے خلاف مزاحمت کے علاوہ داعش اور اسرائیل کے خطرے سے نمٹنا ہے۔ اس کی وجہ سے ان گروپوں پر بڑی ذمے داری عائد ہوتی ہے۔ انہیں راکٹوں اور ڈرون طیاروں جیسے ہتھیاروں کا حصول یقینی بنانا ہو گا"۔

عربی روزنامے الشرق الاوسط کے مطابق اس سے قبل "النجباء" موومنٹ کا سرکاری ترجمان اس حوالے سے "مہلت" پیش کرنے کی بات کر چکا ہے۔ ترجمان کے مطابق اس مہلت کا مطالبہ امریکی جانب سے کیا گیا تا کہ وہ اپنی فورسز کے انخلا کا عمل مکمل کر لے۔

واضح رہے کہ ایران نے ہفتے کے روز امریکا کے ان الزامات کی یکسر تردید کی تھی کہ تہران عراق اور شام میں امریکی فورسز پر حملوں کے لیے مسلح گروپوں کو سپورٹ پیش کر رہا ہے۔ یہ بات ایرانی سرکاری میڈیا نے بتائی۔

اس سے قبل منگل کے روز امریکا نے عالمی سلامی کونسل کو آگاہ کیا تھا کہ اس نے شام اور عراق میں ایران کے حمایت یافتہ مسلح گروپوں کو فضائی حملوں کا نشانہ بنایا ہے۔ اس کارروائی کا مقصد مسلح عناصر اور تہران کو امریکی فورسز یا تنصیبات پر مزید حملوں سے روکنا ہے۔

ادھر اقوام متحدہ میں ایران کے مندوب مجید تخت روانجی کا کہنا ہے کہ "عراق میں امریکی اہل کاروں یا تنصیبات کے خلاف کسی بھی حملے کو ایران سے منسوب کرنے کا کوئی بھی دعویٰ غلط ہے ... اس میں ادنی ترین درجے کی درستی بھی نہیں پائی جاتی"۔ یہ بات ایران کی سرکاری خبر رساں ایجنسی نے نقل کی ہے۔

یاد رہے کہ رواں سال 2021ء کے آغاز سے عراق میں امریکا کے مفادات پر چالیس سے زیادہ حملے ہو چکے ہیں۔ داعش تنظیم کے خلاف جنگ کے لیے بین الاقوامی اتحاد کے ضمن میں امریکا کے 2500 فوجی عراق میں موجود ہیں۔