.

لبنان پہنچنے والے مسافروں کے سوٹ کیس دواؤں سے کھچا کھچ بھرے ہوئے کیوں؟

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

پردیس میں کئی ماہ گزارنے کے بعد وطن لوٹنے والے لبنانی شہریوں کے ہمراہ گھر والوں اور عزیز و اقارب کے لیے تحائف کے بجائے اُن دواؤں سے بھرے تھیلے ہوتے ہیں جو لبنان میں نہیں مل رہی ہیں یا پر ان کے جلد ہی مارکیٹ سے غائب ہو جانے کا اندیشہ ہے۔

لبنان میں غیر معمولی اقتصادی بحران کے نتیجے میں ایندھن اسٹیشنوں، روٹی کی بھٹیوں اور یہاں تک کہ دواؤں کی دکانوں پر بھی لوگوں کی لمبی قطاریں دیکھی جا رہی ہیں۔

لبنان میں دواؤں کے درآمد کنندگان نے اتوار کی شام ایک بار پھر خبردار کیا ہے کہ ملک میں سیکڑوں دواؤں کا اسٹاک ختم ہو چکا ہے۔ اس کے سبب صحت کا سیکٹر مرکزی طور پر متاثر ہوا ہے۔ میڈیسن امپورٹرز ایسوسی ایشن کا کہنا ہے کہ "لبنان میں دواؤں کی درآمد کا عمل ایک ماہ سے زیادہ عرصے سے تقریبا پوری طرح رکا ہوا ہے"۔

مذکورہ ایسوسی ایشن کے مطابق لبنان کے مرکزی بینک پر دوائیں درآمد کرنے والی کمپنیوں کی واجب الادا رقم کا حجم 60 کروڑ ڈالر سے تجاوز کر چکا ہے۔

اس حوالے سے ادویات درآمد کنندگان کے ایک عہدے دار کریم جبارہ نے فرانسیسی خبر رساں ایجنسی کو بتایا ہے کہ جولائی کے اختتام پر صورت حال الم ناک ہو گی کیوں کہ ہزاروں مریض اپنے علاج کی دواؤں سے محروم ہو جائیں گے۔ ایسوسی ایشن کے مطابق اس بحران کا واحد حل یہ ہے کہ "وزارت صحت کی ترجیحات کے مطابق دوا کی سپورٹ جاری رکھی جائے"۔

لبنان میں حخام نے جمعرات کے روز دواؤں اور طبی لوازمات کی سپورٹ کی پالیسی جاری رکھنے پر آمادگی کا اعلان کیا تھا۔

لبنان میں 2019ء کے موسم خزاں سے تیزی سے اقتصادی سقوط دیکھا جا رہا ہے جو ملک ک تاریخ کا بدترین بحران ہے۔ گذشتہ برس چار اگست کو بیروت کی بندرگاہ پر ہونے والے دھماکوں اور کرونا وائرس کی روک تھام کے لیے اقدامات نے صورت حال کو ابتر بنا دیا۔

لبنان کی مقامی کرنسی 90 فی صد سے زیادہ قیمت کھو چکی ہے۔