.

گوگل ڈوڈل میں جگہ پانے والی فلسطینی فنکارہ ملیحہ افنان سے ملیے

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

آج کا گوگل ڈوڈل فلسطینی فنکارہ ملیحہ افنان کی زندگی کا جشن منا رہا ہے، یہ فلسطینی فنکارہ مشرق وسطی کے 20 ویں صدی کے سب سے اہم فنکاروں میں شمار کی جاتی ہیں۔

ملیحہ افنان اپنی اس خاص تحریری پینٹنگز اور دیگر مخصوص فن کے ساتھ اپنے کام میں زیادہ تر آثار قدیمہ کی کتابوں سے متاثر نظر آتی ہیں۔

ملیحہ افنان اپنی خصوصی پینٹنگز کے ذریعے مشرق وسطی کے تنازعات اور اپنے ثقافتی ورثہ کے ساتھ جلاوطنی اور بے گھر ہونے کے موضوعات بھی تلاش کرتی رہی ہیں۔

فنکارہ ملیحہ افنان 1935 میں فلسطین کے شہر حائفہ میں پیدا ہوئیں۔ کچھ ہی عرصہ بعد وہ اپنے والدین کے ہمراہ بیروت منتقل ہو گئیں۔ وہیں پر انہوں نے ہائی سکول تعلیم حاصل کرنے کے بعد بیروت میں امریکی یونیورسٹی میں بیچلر آف آرٹ کا امتحان پاس کیا۔

ملیحہ افنان 1956 میں امریکہ کے شہر واشنگٹن چلی گئیں، جہاں انہوں نے 1962 میں کورکورن سکول آف آرٹ سے فائن آرٹس میں ماسٹر ڈگری حاصل کی۔

آرٹس کی اپنی اس تعلیم کے دوران انہوں نے عربی اور فارسی رسم الخط سیکھنے میں بہت زیادہ دلچسپی کا اظہار کیا۔
اس دلچسپی کو مدنظر رکھتے ہوئے ملیحہ کے استاد نے امریکہ میں خطاطی کے مصور مارک ٹوبی سے ان کی ملاقات کرائی۔

بعدازاں انہوں نے 1963 سے 1966 تک کویت میں سکونت اختیار کر لی جس کے بعد انہوں نے بیروت میں جا کر رہنے کو ترجیح دی۔

بیروت میں 1974 کی خانہ جنگی کی وجہ سے انہوں نے بیروت کو مجبورا خیر باد کہہ دیا اور اس کے بعد 23 سال مسلسل فرانس کے شہر پیرس میں گزارے۔


ملیحہ افنان نے 1997 میں پیرس سے لندن شفٹ ہونے کا پلان بنایا لیکن اس سے قبل انہوں نے اپنے فن کے حوالے سے متعدد نمائشوں کا اہتمام کیا۔

قبل ازیں ملیحہ افنان کوتحریری زبان میں مصوری کے فن میں دلچسپی اسی وقت پیدا ہوگئی تھی جب وہ بچپن میں ہی خیالی خطوط اور صفحات پر لکیریں کھینچتیں اور نمبر لکھتی تھیں۔ان کے اس کام سےفن خطاطی کا ایک الگ انداز پیدا ہوا تھا۔

ملیحہ افنان کے شاہکار مشرق وسطی کی متعدد گیلریوں، یورپ کے متعدد عجائب گھروں اور نیویارک کے مشہور میٹروپولیٹن میوزیم آف آرٹ میں موجود ہیں۔

آرٹس کی دنیا میں اپنی منفرد شناخت بنانے والی ملیحہ افنان کا 80 سال کی عمر میں لندن میں 6 جنوری 2016 میں انتقال ہوگیا تھا۔