.

الجزائر : ساحل سمندر پر پراسرار طور پر 200 افراد طبیعت کی خرابی کا شکار

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

الجزائر کے شمال مغرب میں سمندر پر موجود تقریبا 200 افراد پراسرار طور پر طبیعت کی خرابی کا شکار ہو گئے جس کے نتیجے میں انہیں ہسپتال میں داخل کرنا پڑا۔ یہ واقعہ تنس کے علاقے میں پیش آیا۔ مقامی اور طبی حکام کے مطابق اس صورت حال کا سبب غالبا سمندر میں موجود آلودگی ہو سکتی ہے۔

دریں اثنا مذکورہ علاقے میں تین ساحلوں اور ایک واٹر ڈیسیلینیشن پلانٹ کو بند کر دیا گیا ہے۔ الشلف ریاست کے جنرل پراسیکیوٹر نے واقعے کی تحقیقات کا حکم دے دیا ہے۔

الشلف ریاست کے والی لخضر سداس نے بتایا کہ متاثرہ افراد متلی، بخار اور آنکھوں کی سوزش کی کیفیت سے دوچار ہوئے۔ تمام افراد کو ہسپتال سے رخصت کر دیا گیا۔

الشلف میں ہیلتھ ڈائریکٹریٹ کے ایک ذمے دار ڈاکٹر نصر الدین بن کرطالیہ نے اس مفروضے کا اظہار کیا ہے کہ ساحل پر تیراکی کرنے والے متاثرہ افراد نے ممکنہ طور پر کوئی گیس سانس کے ذریعے اندر لے لی ہو۔ ٹیسٹ کے نتیجے سے اس گیس کی نوعیت کا تعین کیا جائے گا۔

ریاست کے والی کا کہنا ہے کہ "ہم کسی مفروضے کو خارج از قیاس نہیں قرار دے سکتے۔ اس وقت غالب ترین گمان یہ ہے کہ تنس کے سمندر میں جانوروں کی غذا سے لدے ایک بحری جہاز سے رساؤ ہوا ہے"۔

یہ بھی فرض کیا جا رہا ہے کہ زہریلی کائی پانی میں پھیل گئی۔ اس مفروضے کا اظہار دارالحکومت الجزائر سٹی میں باب الزوار یونیورسٹی میں حیاتیاتی علوم کے پروفیسر رضا جبار نے کیا۔