.
جوہری ایران

ایران 20 فی صد تک افزودہ یورینیم دھات تیارکرناچاہتا ہے:آئی اے ای اے

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

ایران 20 فی صد تک افزودہ یورینیم دھات تیار کرنا چاہتا ہے اور اس نے اپنے اس ارادے سے متعلق اقوام متحدہ کے تحت جوہری توانائی کے عالمی ادارے (آئی اے ای اے)کو مطلع کردیا ہے۔

ویانا میں قائم عالمی ایجنسی نے منگل کے روز ایک بیان میں کہا ہے کہ ’’ایران اپنے جوہری ری ایکٹر میں ایندھن کے طور پراستعمال کرنے کے لیے یورینیم دھات کو 20 فی صد تک افزودہ کرنا چاہتا ہے۔‘‘اس کے اس اقدام پر مغربی طاقتیں نالاں ہوسکتی ہیں کیونکہ وہ اس وقت ویانا میں ایران سے 2015ء میں طے شدہ جوہری سمجھوتے کی مکمل بحالی کے لیے بات چیت کررہی ہیں۔

تاہم آئی اے ای اے کا کہنا ہے کہ یورینیم دھات کو مصفا بنانے کا عمل کثیرمراحل پر مشتمل ہوگا اور اس کے لیے کافی وقت درکار ہوگا لیکن مغربی طاقتیں پہلے ایران کی یورینیم کی بہت تھوڑی مقدار کو افزودہ کرنے پر مذمت کرچکی ہیں اور اب وہ افزودہ یورینیم دھات تیار کرنا چاہتا ہے،اس کو جوہری بم کی تیاری میں استعمال کیا جاسکتا ہے۔

واضح رہے کہ ایرانی حکومت کے ترجمان علی ربیعی نے گذشتہ ماہ میڈیاکو بتایا تھاکہ ایران نے ساڑھے چھے کلوگرام یورینیم کو 60 فی صد تک افزودہ کر لیا ہے۔اس کے علاوہ 20 فی صد تک افزودہ یورینیم کی 108کلوگرام مقداربھی تیار کر لی گئی ہے۔ ایران کو ایک جوہری بم کی تیاری کے لیے 90 فی صد تک افزودہ یورینیم درکارہے ۔

ایران نے اپریل میں یورینیم کو 60 فی صد تک افزودہ کرنے کا اعلان کیا تھا۔اس نے دشمن ملک اسرائیل پر اپنی ایک جوہری تنصیب میں تخریب کاری کا الزام عاید کیا تھا اور کہا تھا کہ وہ اس کے ردعمل میں یورینیم کومقررہ حد سے زیادہ سطح تک افزودہ کررہا ہے۔

علی ربیعی کا کہنا تھا کہ ’’ایرانی پارلیمان کے منظورکردہ قانون کے تحت جوہری توانائی تنظیم ایک سال میں 20 فی صد تک افزودہ یورینیم کی 120 کلوگرام پیداوار حاصل کرسکتی ہے۔تازہ رپورٹ کے مطابق گذشتہ پانچ ماہ کے دوران میں ہم نے 20 فی صد تک افزودہ یورینیم کی 108 کلوگرام مقدار تیار کر لی ہے۔‘‘

آئی اے ای اے نے ایران کی جوہری سرگرمیوں سے متعلق مئی میں جاری کردہ ایک اور رپورٹ میں یہ انکشاف کیا تھاکہ اس نے 2015ء میں طے شدہ جوہری سمجھوتے میں مقررہ حد سے افزودہ یورینیم کا 16 گنا زیادہ ذخیرہ اکٹھا کر لیا ہے۔

تب ادارے نے ایران کی جوہری سرگرمیوں سے متعلق اپنی سہ ماہی رپورٹ میں کہا تھا کہ ’’اس نے 20 فی صد تک افزودہ یورینیم کی 62۰8 کلوگرام مقدار تیار کر لی ہے اور 60 فی صد تک افزودہ یورینیم کا 2۰4 کلوگرام ذخیرہ اکٹھا کر لیا ہے۔‘‘

ایران اس سے پہلے یورینیم کو 20 فی صد تک مصفا افزودہ کر رہا تھا اور اس کی یہ سرگرمی بھی 2015ء میں عالمی طاقتوں کے ساتھ طے شدہ جوہری سمجھوتے کی شرائط کی خلاف ورزی تھی۔ وہ اس کی شرائط کے تحت یورینیم کو صرف 3۰67 فی صد تک افزودہ کرسکتا ہے۔