.

ٹرانسپورٹ کے شعبے میں 2030 تک 150 ارب ڈالر کی سرمایہ کاری متوقع

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

سعودی عرب کے وزیر برائے ٹرانسپورٹ اور لاجسٹکل سروسز صالح بن ناصرالجاسر نے توقع ظاہر کی ہے کہ ٹرانسپورٹ اور سامان کی نقل و حمل سے متعلق مملکت کی اعلان کردہ حالیہ نئی حکمت عملی کے ذریعے 2030 تک 550 ارب ریال (150 ارب ڈالر) کی سرمایہ کاری ہو سکے گی۔ صالح الجاسر کے بقول’’ضروری سرمایہ کاری کا 35 فیصد حکومت مہیا کرے گی اور باقی نجی سرمایہ کاروں کی جانب سے آئے گا۔‘‘

سعودی ولی عہد شہزادہ محمد سلمان کی جانب سے ٹرانسپورٹ اور لاجسٹکس سے متعلق خد وخال کا خاکہ ایک ہفتہ قبل جاری کیا گیا تھا۔ اس کا مقصد مملکت کو لاجسٹکس کا ایسا عالمی مرکز بنانا ہے جو تین براعظموں کو جوڑنے کے ساتھ ساتھ ویژن 2030 کے مطابق تمام ٹرانسپورٹ سہولیات میں بہتری لائے۔

اس امر کا اظہار سعودی عرب کے ٹرانسپورٹ اور لاجسٹکل سروسز نے ایک نیوز کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا۔ ان کا کہنا تھا کہ یہ سرمایہ کاری پبلک ٹرانسپورٹ، ریلویز، ایئر پورٹس کی توسیع و ترقی کے شعبہ جات میں متوقع ہے۔ ان کے مطابق اس حکمت عملی سے حج، سیاحت اور صنعتوں سمیت متعدد شعبے مربوط ہوں گے اس لیے اس سے معاشی سرگرمیوں کو متعدد فوائد ہوں گے۔

اس موقع پر سعودی عرب میں شہری ہوابازی کی جنرل اتھارٹی کے صدر عبدالعزيز الدعيلج نے بتایا کہ نئی حکمت عملی کے تحت ایئرلائنز موجودہ 90 سے بڑھ کر دنیا بھر میں 250 منزلوں تک رسائی کی کوشش کریں گی۔ مملکت کے ایئر پورٹ پر مسافر کی موجودہ گنجائش 10 کروڑ تین لاکھ کو بڑھا کر 33 کروڑ کرنا ہدف ہے۔

نئی حکمت عملی کے معاشی و سماجی اہداف کے حصول کے لیے متعدد منصوبے طے کیے گئے ہیں، ان میں دوسری قومی ایئرلائن کا اجرا بھی شامل ہے۔ اس کے تحت وزارت ٹرانسپورٹ کو وزارت ٹرانسپورٹ اور لاجسٹکس سروسز کا نیا نام دیا گیا ہے۔ ولی عہد کا کہنا تھا کہ ’حکمت عملی کے نتیجے میں مملکت میں لاجسٹکس اور ٹرانسپورٹ سے متعلق انسانی اور تکنیکی استعداد بہتر ہو گی۔‘