.

بجلی کی عدم دستیابی پر ایرانی عوام کا پارہ ہائی ،صدر حسن روحانی نے معافی مانگ لی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

ایران کے صدر حسن روحانی نے شدید گرمی کی لہر میں وسیع پیمانے پر بجلی کی فراہمی منقطع ہونے پر عوام سے معافی مانگ لی ہے۔ بجلی سے محروم ہونے پر عوام کا سخت رد عمل سامنے آیا اور لوگ احتجاج کے لیے سڑکوں پر نکل آئے۔

آج منگل کے روز سرکاری ٹیلی وژن پر نشر ہونے والے بیان میں صدر روحانی نے کہا کہ "میں اپنے پیارے عوام سے معافی چاہتا ہوں جن کو گذشتہ دو روز میں شدید مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔ عوام برقی رو منقطع ہونے پر شکایت کر رہے ہیں ، وہ حق بجانب ہیں"۔

روحانی نے مزید کہا کہ "میں وزارت توانائی کو ملامت کا نشانہ نہیں بناؤں گا،تاہم متعلقہ وزیر پر لازم ہے کہ وہ عوام کو مشکل کی تفصیل سے آگاہ کریں اور ہمیں اس کا حل تلاش کرنا ہو گا"۔

ایرانی میڈیا کے مطابق بجلی کی عدم فراہمی پر کئی شہروں میں چراغ پا افراد احتجاج کے لیے سڑکوں پر نکل آئے۔

ایرانی طلبہ کی نیم سرکاری خبر رساں ایجنسی نے اپنی رپورٹ میں بتایا ہے کہ ملک کے شمال مشرقی قصبے میں احتجاجیوں نے بتایا کہ بجلی کی مسلسل عدم فراہمی کے سبب کئی مشکلات درپیش ہیں۔ ان مشکلات میں رہائشی فلیٹوں میں پانی کی فراہمی منقطع ہو جانا اور گھروں میں ریفریجریٹروں کے اندر گوشت ، مرغی اور دیگر غذائی اشیاء کا خراب ہو جانا شامل ہے۔

تہران میں پیر کے روز گھروں کی بالکونیوں میں ایرانی رہبر اعلیٰ علی خامنہ ای کے خلاف زبردست نعرے بازی ہوئی۔ گرمی کی شدت میں اضافے کے بیچ بار بار لوڈشیڈنگ نے لوگوں کو غصے سے پاگل بنا دیا۔ تہران کے مشرقی حصے میں گلی محلوں میں عوام کی جانب سے " آمر مردہ باد ... خامنہ ای مردہ باد" کے نعرے لگائے گئے۔

ایرانی عوام کی جانب سے اس غیظ وغضب کا اظہار اتوار اور پیر کی درمیانی شب اچانک سے ملک کے وسیع علاقے میں برقی رو منقطع ہونے کے بعد کیا گیا ہے۔متاثرہ علاقوں میں تہران، برز، قم، اہواز، بلوچستان، اصفہان، شیراز، تبریز اور دیگر علاقے شامل ہیں۔مقامی میڈیا کے مطابق ہفتے کے روز بھی بجلی کی طویل بندش جاری رہی تھی۔