.

سعودی عرب:30 عالمی جامعات میں خلائی سائنس کی تعلیم کے لیے وظیفہ پروگرام کااعلان

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

سعودی عرب نے دنیا کی بہترین30 جامعات میں اپنے طلبہ کو خلائی سائنس کے شعبے میں اعلیٰ تعلیم دلانے کے لیے پہلےاسکالرشپ پروگرام کاآغاز کردیا ہے۔

سعودی عرب کے اسپیس کمیشن نے بدھ کے روز سرکاری وظیفے پر بیرون ملک اعلیٰ تعلیم کے اس پروگرام کا اعلان کیا ہے۔اس کے تحت سعودی طلبہ وطالبات کو دنیا کی 30 بہترین جامعات میں سرکاری خرچ پر خلائی سائنس میں اعلیٰ تعلیم کے مواقع مہیّا کیے جائیں گے اور ان کے فارغ التحصیل ہونے کے بعد سعودی عرب میں ان کے کسی منتخبہ شعبے میں ملازمت کی ضمانت دی جائے گی۔

اس اسکالرشپ پروگرام کے پہلے مرحلے میں خلائی سائنس کے مختلف ذیلی شعبوں میں بیچلر اور ماسٹرز کی ڈگریوں تک تعلیم کے لیے طلبہ وطالبات کا انتخاب کیا جائے گا۔ وہ ایروسپیس ، خلائی سپیس اور خلائی پالیسیوں ایسے مضامین میں تعلیم کے لیے اپنا اندراج کراسکیں گے۔

کمیشن نے کہا ہے کہ اس پروگرام کے تحت امیدواروں سے 25 جولائی سے درخواستیں وصول کی جائیں گی۔ اسکالرشپ کے حصول کے لیے درخواست گزار طلبہ وطالبات کو بعض شرائط کو پورا کرنا ہوگا،وہ سعودی عرب کے شہری ہونے چاہییں،وہ اچھے اخلاق وکردار کے مالک ہوں،ان کے پاس مذکورہ بالا شعبوں میں کمیشن کی فہرست میں شامل کسی بین الاقوامی جامعہ میں داخلہ کے لیے غیرمشروط قبولیت کا خط ہونا چاہیے۔

اگر کوئی طالب علم کمیشن کی فہرست میں شامل جامعات میں پہلے ہی اپنے اخراجات پر تعلیم حاصل کررہا ہے تو وہ بھی اس پروگرام کے تحت وظیفے کے حصول کے لیے درخواست دے سکتا ہے لیکن اس کو وزارت تعلیم کی طے کردہ تمام شرائط پر پورا اترنا ہوگا۔

سعودی اسپیس کمیشن کے قائم مقام چیف ایگزیکٹو آفیسر محمد بن سعود التمیمی کا کہنا ہے کہ خلائی سائنس میں اعلیٰ تعلیم کے لیے وظیفے کے اس پروگرام کا اعلان شاہ سلمان بن عبدالعزیز اور ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان کی مملکت میں خلائی شعبے کی تحقیق وترقی کے لیے کاوشوں کے حصے کے طور پر کیا گیا ہے۔

جن سعودی طلبہ اور طالبات کا اس پروگرام کے تحت بین الاقوامی جامعات میں اندراج ہوگا،ان کی تمام تعلیمی فیسیں ، صحت کی مکمل انشورنش ، سعودی عرب سے بیرون ملک متعلقہ جامعہ میں جانے اورواپس آنے کے فضائی ٹکٹ کے تمام اخراجات حکومت کی طرف سے ادا کیے جائیں گے۔نیز اس پروگرام میں شمولیت اختیار کرنے والے تمام طلبہ وطالبات کی تعلیمی ترقی کا باقاعدگی سے جائزہ لیا جائے گا۔

واضح رہے کہ سعودی اسپیس کمیشن 2018ء میں قائم کیا گیا تھا۔اس کا مقصد سعودی عرب میں خلائی سائنس سے متعلق تحقیق اور صنعتی سرگرمیوں کو فروغ دینا ہے۔