.

ترکی سیکورٹی کمپنیوں کے تحت شامی اجرتی جنگجوؤں کو کابل بھیجنے کے لیے کوشاں

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

ترکی کی جانب سے ہزاروں شامی اجرتی جنگجوؤں کو لیبیا اور پھر آذربائیجان منتقل کرنے کے بعد ایسا لگ رہا ہے کہ انقرہ حکومت اس مرتبہ سرکاری معاہدوں کے ذریعے شام سے نئے جنگجو افغانستان بھیجنے کی منصوبہ بندی میں مصروف ہے۔

اس اقدام کا مقصد افغانستان سے امریکا اور اس کے حلیفوں کے انخلا کے بعد کابل کے ہوائی اڈے کی حفاظت کے لیے جنگجو عناصر فراہم کرنا ہے۔

شام میں انسانی حقوق کے نگراں گروپ المرصد کے مطابق جنگجوؤں کو کابل بھیجنے کے حوالے سے ترکی اور اس کے ہمنوا بعض شامی گروپوں کی قیادت کے بیچ ابتدائی سمجھوتا طے پا گیا ہے۔ یہ اسی طرز پر ہے جس طرح اسے قبل لیبیا اور نگورنا کاراباخ ریجن کے لیے ہوا تھا۔

البتہ اس مرتبہ معاملہ مختلف ہو گا اور انقرہ حکام ان جنگجوؤں کو سرکاری معاہدوں کے ذریعے ترک سیکورٹی کمپنیوں میں بھرتی کریں گے اس کے بعد سرکاری شکل میں انہیں افغانستان بھیجا جائے گا۔

غالب گمان ہے کہ ترکی کی انٹیلی جنس کے زیر نگرانی منتقلی کا یہ عمل آئندہ ستمبر میں شروع ہو جائے گا۔ شامی عناصر کو کابل ہوائی اڈے کے علاوہ سرکاری اور بین الاقوامی فورسز کی تنصیبات اور صدر دفاتر کی حفاظت کے لیے استعمال کیا جائے گا۔ جہاں تک ان کے معاوضے کا تعلق ہے تو شامی اجرتی جنگجوؤں کو ماہانہ ڈھائی سے تین ہزار ڈالر ادا کیے جائیں گے۔

المرصد کے مطابق یہ معاملہ ابھی زیر غور ہے۔ ابھی تک اس پر عمل درامد یا اس کی تیاری کا مرحلہ نہیں آیا ہے۔

ترک حکام یا اس کے ہمنوا شامی گروپوں کی جانب سے اس حوالے سے کوئی تبصرہ سامنے نہیں آیا ہے۔

یاد رہے کہ شامی گروپوں کے 6000 کے قریب ارکان اس وقت بھی لیبیا کی سرزمین پر موجود ہیں۔ ان عناصر کو گذشتہ برسوں میں کھیپ در کھیپ دارالحکومت طرابلس پہنچایا گیا۔ اس کا مقصد لیبیا کی فوج کے خلاف وفاق کی فورسز اور اس کی ہمنوا ملیشیاؤں کو سپورٹ کرنا ہے۔