.

حوثی ملیشیا کا ہزاروں سرکاری ملازمین کی جگہ اپنے وفادار بھرتی کرنے کا منصوبہ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

یمن میں ایرانی حمایت یافتہ حوثی ملیشیا نے عوام کے حقوق پر ڈاکہ ڈالنے اور ہزاروں سرکاری ملازمین کو ان کی ملازمت سے محروم کرتے ہوئے ان کی جگہ اپنے وفادار لوگ بھرتی کرنے کا منصوبہ تیار کیا ہے۔

یمن کے پارلیمانی ذرائع کے مطابق حوثی باغیوں نے ایک لاکھ 60 ہزار سرکاری ملازمین کو برطرف کرکے ان کی جگہ اپنے وفادار بھرتی کرنے کا پلان بنایا ہے۔

دوسری جانب یمن کے انسانی حقوق کے حلقوں، سیاسی اور سماجی رہ نماؤں نے حوثی ملیشیا کے اس منصوبے کی مذمت کرتے ہوئے اسے بنیادی انسانی حقوق اور عالمی قوانین کی کھلی خلاف ورزی قرار دیا ہے۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ حوثی ملیشیا کی قائم کردہ نام نہاد حکومت کے وزیر برائے سول سروسز سلم المغلس نے ملازمین کو برطرف یا قبل از وقت ریٹائر کرنے اور ان کی جگہ اپنے حامیوں کو بھرتی کرنے کا پلان تیار کرنا شروع کیا ہے۔

سليم المغلس
سليم المغلس

صنعا میں فیڈریشن آف سنڈیکیٹس آف اسٹیٹ ایڈمنسٹریٹو اسٹاف نے پبلک سروس یونٹوں کے تمام ملازمین، یمنی ٹریڈ یونینوں کی جنرل فیڈریشن اور جمہوریہ کی تمام اجتماعی سودے باز انجمنوں سے مطالبہ کیا کہ وہ حوثی ملیشیا کے دسیوں ہزاروں ملازمین کو ملازمت سے محروم کرنے کے مذموم عزائم کو مسترد کریں۔

فیڈریشن نبے ایک بیان میں حوثی ملیشیا کے وزیر کی طرف سے سرکاری ملازمین کی ریٹائرمنٹ سے متعلق ملازمت کے عرصے کی تخصیص کرنے کو مسترد کر دیا ہے۔ بیان میں کہا گیا ہے کہ حوثی ملیشیا ملازمین کی ریٹائرمنٹ کے بہانے ایسے ہزاروں ملازمین کو نوکریوں سے نکال رہی ہے جو حوثی باغیوں کی وفاداری کا دم نہیں بھرتے۔

امدادی سامان کے مرکز میں مزدور سیمنٹ کی بوریاں اٹھا رہے ہیں
امدادی سامان کے مرکز میں مزدور سیمنٹ کی بوریاں اٹھا رہے ہیں

بیان میں کہا گیا ہے حوثی ملیشیا کی طرف سے ملازمین کی ریٹائرمنٹ سے متعلق جاری کردہ سرکلر ہزاروں خاندانوں کے لیے ایک سنگین بحران کا باعث بن سکتا ہے۔

یمن میں انسانی حقوق کے لیے کام کرنے والے ادارے ’سام آرگنائزیشن برائے حقوق وآزادی‘ نے بدھ کے روز جاری ایک رپورٹ میں انکشاف کیا ہے کہ حوثی ملیشیا نے ایک لاکھ 60 ہزار سرکاری ملازمین کو جبری ریٹائر کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ ریٹائر کیے جانے والے ملازمین کو کسی قسم کی قانونی مالی مراعات نہیں دی جائیں گی اور ان کے ریٹائرمنٹ فنڈ سےبھی انہیں محروم کیا جائے گا۔