.

طالبان کو چیلنج کرتے ہوئے افغان خواتین ہتھیار لے کر سڑکوں پر نکل آئیں

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

افغانستان کے وسطی صوبے غور میں سیکڑوں مقامی خواتین نے احتجاجی مظاہرہ کیا۔ مظاہرے میں شریک خواتین نے بندوقیں تھام رکھی تھیں اور وہ افغان طالبان کے خلاف نعرے لگا رہی تھیں۔

غور صوبے میں خواتین ڈائریکٹریٹ کی سربراہ حلیمہ پرستش جو خود مظاہرے میں شامل تھیں انہوں نے کہا کہ "بعض خواتین نے افغان فورسز کے واسطے علامتی حمایت کا یہ پیغام بھیجا ہے ،،، تاہم مظاہرے میں شریک متعدد خواتین نے باور کرایا کہ وہ لڑائی کے میدانوں میں جانے کے لیے تیار ہیں"۔ یہ بات برطانوی اخبار "گارڈین" نے آج جمعرات کے روز بتائی۔

دوسری جانب جوزجان صوبے سے تعلق رکھنے والی ایک افغان خاتون صحافی نے اپنی شناخت ظاہر نہ کرتے ہوئے بتایا کہ "ملک میں کوئی عورت بھی واقعتا زمینی لڑائی نہیں چاہتی ہے تاہم ہم صرف اپنے سادہ ترین حقوق کے طالب ہیں مثلا میں تشدد سے دور رہتے ہوئے اپنی تعلیم مکمل کر لوں ... تاہم حالات نے ہمیں ایسا کرنے پر مجبور کر دیا .. میں نہیں چاہتی کہ ملک ایسے لوگوں کے زیر کنٹرول ہو جو خواتین کے ساتھ دہشت ناک طریقے سے پیش آتے ہیں لہذا اس واسطے ہم نے ہتھیار تھام لیے کہ اپنی لڑنے کی صلاحیت باور کرا دیں .. میرے ساتھ درجنوں خواتین ہتھیاروں کا استعمال سیکھ رہی ہیں"۔

دوسری جانب غور صوبے کے گورنر عبد الزاهر وزاده کا کہنا ہے کہ "صوبے کے دارالحکومت فیروز کوہ کی سڑکوں پر نکلنے والی بعض خواتین واقعتا طالبان کے خلاف لڑ چکی ہیں۔ ان میں اکثریت کو طالبان کے تشدد کے سبب مشکلات سے دوچار ہونا پڑا ہے۔ ان میں بعض خواتین اپنے بیٹوں اور بھائیوں وغیرہ کو پرتشدد واقعات میں کھو چکی ہیں"۔

واضح رہے افغانستان میں کئی صوبوں کے صدر مقامات اور درجنوں علاقے اس وقت طالبان کے زیر کنٹرول آ چکے ہیں۔ ان علاقوں میں خواتین پر تعلیم اور پردے سے متعلق پابندیاں عائد کر دی گئی ہیں۔

طالبان کے خلاف افغان خواتین کا اس طرح سے سامنے آنا نادر نوعیت کا واقعہ ہے۔