.

پیکنگ مواد پر خواتین کی تصاویر سے حوثی نالاں، صنعاء میں سیکڑوں پیکٹ نذر آتش

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

یمنی دارلحکومت کے مقامی عہدیدار اور تاجروں کے مطابق حوثی ملیشیا سے تعلق رکھنے والے جنگجوؤں نے صنعاء کے مختلف علاقوں میں خواتین کے زیر جامہ کی تغلیف کے لئے استعمال ہونے والے ڈبوں کو جمع کر کے نذر آتش کر دیا ہے۔ حوثیوں کے بقول زیر جامہ پیکنگ مواد پر خواتین کی شائع کردہ تصاویر پاک بازی کے معیار پر پورا نہیں اترتیں۔

خواتین کے زیر جامہ فروخت کرنے والے مقامی دکاندار محمد العلیمی نے فرانسیسی خبر رساں ادارے ’’اے ایف پی‘‘ کو بتایا کہ ’’حوثیوں کی وزارت تجارت نے خواتین کی تصاویر والا پیکنگ مواد قبضے میں یہ کہتے ہوئے ضبط کیا ہے کہ یہ مواد ’’حیا باختگی اور بدتمیزی‘‘ کے زمرے میں آتا ہے۔ حوثیوں کی اس روش نے داعش کے قوانین کی یاد تازہ کرا دی۔

ایک اور تاجر عمر الوصابی کا کہنا تھا کہ حوثیوں کی اس مہم کا اطلاق خواتین کے زیر جامہ فروخت کرنے والی شہر کی تمام دکانوں پر کیا جا رہا ہے۔ خواتین کی تصاویر والے سیکڑوں ڈبوں کو یہ کہتے ہوئے آگ لگا دی ہے کہ ایسی تصاویر کی نمائش جائز نہیں۔

داعش کے نقش قدم پر

ان خلاف وزیوں پر تبصرہ کرتے ہوئے یمنی وزیر اطلاعات معمر الاریانی کا کہنا تھا کہ ’’صنعاء اور اپنے زیر نگین دوسرے علاقوں میں خواتین کے کپڑوں کی دکانوں سے سامان کی ضبطی دراصل خواتین کی عبایا میں استعمال ہونے والی بلٹوں سمیت ریستوران اور کیفے کی بند کرنے کی مہم کا ہی حصہ ہے، جس میں بینکوئیٹ ہالز کو بے سروپا الزام لگا کر بند کیا جا رہا ہے۔‘‘

ٹویٹر پر اپنے پیغام میں انھوں نے کہا کہ ان اقدامات سے حوثی ملیشیا کا اصل چہرہ سامنے آ گیا ہے کو کسی بھی دوسری دہشت گرد تنظیموں سے مختلف نہیں ہے۔

خلاف وزیوں کا تسلسل

یاد رہے کہ گذشتہ برس حوثی جنگجوؤں نے عبایا کے اوپر باندھی جانے والے خواتین کی بیلٹوں کو ضبط کر لیا گیا۔ اس سے قبل صنعاء کے اکلوتے خواتین کیفے کی تالا بندی کر دی گئی۔ بیوٹی پارلرز کو خواتین کے بال تراشنے سے منع کر دیا گیا۔

دو ہزار چودہ سے ایران کی حمایت یافتہ حوثی ملیشیا صنعاء سمیت اپنے زیر نگین دوسرے علاقوں میں اپنے خود ساختہ قوانین نافذ کر رہی ہیں۔ باغی ملیشیا تاجروں اور کاروباری افراد کو جنگ کے نام پر ٹیکس دینے کے لیے مجبور کرتی چلی آ رہی ہے۔