.

رغد صدام نے اپنے نام منسوب ’دستاویز‘ مسترد کر دی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

عراق کے مصلوب صدر صدام حسین کی جلا وطن صاحب زادی رغد صدام حسین نے سوشل میڈیا پر وائرل ہونے والی ایک دستاویز سے کسی قسم کی لا تعلقی کا اظہار کیا ہے۔

سوشل میڈیا پر وائرل ہونے والی اس دستاویز جسے مبینہ طور پر رغد صدام کے نام منسوب کیا گیا ہے میں تیل کی آمدنی عراقی عوام میں تقسیم کرنے کا وعدہ کیاگیا ہے۔

مائیکرو بلاگنگ ویب سائٹ ’ٹویٹر‘ پر پوسٹ کردہ ٹویٹس میں رغد کا کہنا ہے کہ میں نے ایسی کوئی دستاویز نہ تو جاری کی ہے اور نہ اس طرح کے جھوٹے وعدوں پر مبنی کسی دستاویز کے ساتھ میرا کوئی تعلق ہے۔

سوشل میڈیا پر سامنے آنے والی ایک دستاویز کو رغد صدام حسین کے نام سے منسوب کیا گیا ہے۔ اس میں کہا گیا ہے کہ رغد صدام تیل کی آمدن عراقی عوام میں تقسیم کریں گی۔ بے روزگاروں کو روزگار دیں گی اور مختلف پیشہ ور افراد کو ایک ملین عراقی دینار کے مساوی مشاعرے دیں گی۔

دستاویز میں عراق کے امریکا اور اسرائیل کے ساتھ تعلقات کو بہتر بنانے کا بھی عزم کیا گیا ہے۔ خلیجی ممالک کے ساتھ سرحدیں کھولنے، عراقی شہریوں میں زمینیں تقسیم کرنے، ٹیکسوں میں کمی، کرپٹ ، رشوت خور اور جاسوسی میں ملوث لوگوں کو بلا امتیاز سزائے موت دینے کی بات کی گئی ہے۔

دستاویز میں کہا گیا ہے کہ رغد صدام حسین عراق اور ایران کےدرمیان سرحد بند کر دیں گی اور دونوں ملکوں میں آمد ورفت روک دیں گی۔ ایران کے ساتھ صحت، خوراک اور عسکری شعبے کی تجارت بند کردی جائے گی۔

خیال رہے کہ اردن میں جلا وطنی کی زندگی گذارنے والی رغد صدام حسین نے چند ماہ قبل العربیہ چینل کو دیے گئے ایک انٹرویو میں ایران کی عراق میں مداخلت پر تنقید کی تھی۔ ان کا کہنا تھا کہ ایرانیوں نے عراق کو اپنی سرزمین بنا رکھا ہے۔ وہ جہاں چاہتے ہیں پہنچ جاتے ہیں۔ عراق کی سرزمین ان کے لیے مباح ہوچکی ہے۔

کچھ عرصہ پیشتر یہ اطلاعات بھی آئی تھیں کہ رغد صدام حسین عراق میں وزار عظمیٰ کے انتخابات میں حصہ لینے کی خواہاں ہیں تاہم رغد کے قریبی ذرائع نے اس کی تردید کی ہے۔