.

عراق اور شام میں مہلک ہتھیاروں سے حملے سنگین خطرہ ہیں: پینٹاگان

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

امریکی وزارت دفاع کا کہنا ہے کہ حالیہ دنوں میں عراق اور شام میں ایران کے ہمنوا مسلح گروپوں کی جانب سے کیے گئے حملے ایک سنگین خطرہ ہیں۔ وزارت دفاع نے ان سلسلہ وار حملوں پر اپنی گہری تشویش ظاہر کی ہے جس نے امریکی فوجیوں کو لپیٹ میں لے لیا۔

جمعرات کی شب العربیہ / الحدث نیوز چینلوں کے ایک سوال کا جواب دیتے ہوئے پینٹاگان کے ترجمان جون کیربی نے مزید کہا کہ "ہم اس حوالے سے خوش قسمت رہے کہ بدھ کے حملے میں صرف دو افراد زخمی ہوئے"۔ انہوں نے واضح کیا کہ "یہ لوگ (حملہ آور) مہلک ہتھیار استعمال کر رہے ہیں، میں نہیں جانتا کہ اسے سنگین خطرے کے سوا کیا کہا جائے"۔

پینٹاگان کی جانب سے یہ بیان گذشتہ دو روز کے اندر عراق اور شام میں فوجی اڈوں پر حملوں کے بعد سامنے آیا ہے۔ اس دوران میں بغداد میں امریکی سفارت خانے کا احاطہ بھی حملوں کی لپیٹ میں آیا۔ ان کارروائیوں کا مقصد امریکی سفارت کاروں اور فوجیوں کو نشانہ بنانے کی کوشش کرنا ہے۔

بدھ کے روز تین حملے کیے گئے۔ ان میں ایک ڈرون طیارے اور درجنوں راکٹوں کا استعمال کیا گیا۔ اس دوران میں انبار صوبے میں عین الاسد فوجی اڈے پر ہونے والے حملے میں دو امریکی فوجی زخمی ہو گئے۔

اگرچہ کسی جماعت یا گروپ نے ان حملوں کی ذمے داری قبول نہیں کی ہے۔ تاہم تجزیہ کاروں کے نزدیک یہ ایران کے حمایت یافتہ مسلح گروپوں کی جانب سے جاری مہم کا حصہ ہے۔

یاد رہے کہ عراقی حکام نے کل اس بات کا اعلان کیا تھا کہ عین الاسد پر حملے میں ملوث افراد کو گرفتار کر لیا گیا ہے۔

واضح رہے کہ رواں سال 2021ء کے آغاز سے اب تک عراق میں امریکی مفادات پر 45 سے زیادہ حملے کیے گئے۔ عراق میں اس وقت 2500 امریکی فوجی موجود ہیں۔ یہ داعش تنظیم کے خلاف بین الاقوامی اتحاد میں شامل ہیں۔

حالیہ عرصے میں حملے کے لیے ڈرون طیاروں کا استعمال بین الاقوامی اتحاد کے لیے تشویش کا باعث بن چکا ہے۔ اس لیے کہ یہ ڈرون طیارے اُس دفاعی نظام سے بچ کر نکل سکتے ہیں جو امریکی فوج نے راکٹ حملوں کے خلاف نصب کیا ہوا ہے۔