.

تونس کی سرکردہ خاتون رہ نما کا صدر سے اخوان کے احتساب کا مطالبہ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

تونس میں فری دستوری پارٹی کی سربراہ عبیر موسیٰ نے جمعہ کے روز کہا ہے کہ ان کا ملک شدت پسند مذہبی سیاسی جماعت اخوان المسلمون کی وجہ سے ایک ایسے بحران کا شکار ہے جس سے ملک کے استحکام کو خطرہ لاحق ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہم صدر قیس سعید کی طرف سے اخوان المسلمون کی کارروائیوں کی تحقیقات کے حکم کے منتظر ہیں۔

انہوں نے ایک مصری سیٹیلائٹ چینل کو انٹرویو دیتے ہوئے واضح کیا کہ تونس اخوان المسلمون کی حکمرانی کے نتیجے میں خراب معاشی حالات ، سیاسی تناؤ، خطرناک معاشرتی حالات اور آئینی بحران کا سامنا کر رہا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ اخوان کے لیڈروں کو اندازہ ہے کہ عوام انہیں پسند نہیں کرتے اور انہیں مسترد کردیا جائے گا۔

عبیر موسیٰ نے یہ بھی واضح کیا کہ یہ آئینی بحران سب کو پریشان کرتا ہے اور ریاست کے وجود اور استحکام کو خطرات سے دوچار کررہا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ہم جمہوریہ کے صدر کی طرف سے اخوان المسلمون کا خاتمہ کرنے ، ان کا احتساب کرنے اور انہیں ان کے حجم کے اندر محدود کرنے کے فیصلے کے منتظر ہیں۔

انہوں نے کہا کہ ان کی پارٹی ملک کو پیچھے دھکیلنے کی سازشوں کو ناکام بنائے گی۔