.

سابق مصری صدر انور سادات کی بیگم جہان کی زندگی کے خفیہ گوشے

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

مصر کے سابق صدر انور سادات کی اہلیہ جہان سادات کل جمعے کے روز انتقال کر گئیں۔ سادات کی ہلاکت کے روز خاتون اول کا تصرف ان کی قوی شخصیت کا واضح ثبوت ہے۔ جہان نے سابق صدر حسنی مبارک کو خود اپنے شوہر کی وفات کی خبر دی۔ مبارک اس وقت ہسپتال کی انتظار گاہ میں بیٹھے ہوئے تھے جہاں سادات کو زخمی حالت میں لایا گیا تھا۔

اس موقع پر جہان نے کہا "میرے شوہر 11 برس مصر کے صدر رہے۔ اب انور سادات جا چکے ہیں ، وہ زندہ نہیں رہا تاہم مصر ابھی زندہ ہے ، اب یہ ذمے داری آپ کو منتقل ہو گئی ہے"۔

جہان کی گزارش پر حسنی مبارک نے انور سادات کی موت کی خبر کو 7 گھنٹوں تک خفیہ رکھا۔

جہان نے مبارک کو بتایا کہ ان کے شوہر اپنے آبائی گاؤں ابو الکوم میں دفن ہونے کی خواہش رکھتے تھے۔ تاہم مبارک نے کہا کہ "ہم اتنی عظیم شخصیت کو ایسی جگہ کیوں دفن کریں جہاں لوگوں کے پہنچنے میں مشکل درپیش ہو۔ ہمیں سادات کو ان کی ہلاکت کی جگہ پر دفن کرنا چاہیے تا کہ ہر سال 6 اکتوبر ک پریڈ کے موقع پر ہر مصری فوجی اور افسر یہاں سے گزرتے ہوئے انہیں سلامی دے"۔

ابو بکر حامد مصر کے دو سابق صدور انور سادات اور حسنی مبارک کے خصوصی صدارتی طیارے کے کپتان رہے ہیں۔ انہوں نے العربیہ ڈاٹ نیٹ سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ جہان سادات نہایت اعلی تصرفات کی حامل ایک عظیم خاتون تھیں۔ وہ اپنے شوہر اور وطن سے بے پناہ محبت کرتی تھیں۔

ابو بکر نے ماضی پر روشنی ڈالتے ہوئے بتایا کہ جب انور سادات امن مذاکرات کے لیے اسرائیلی وزیر اعظم مناحم بیجین سے ملنے کے لیے اسوان شہر پہنچے تو جہان ان کے ساتھ تھیں۔ انہوں نے ایک لمحے کے لیے بھی سادات کو تنہا نہیں چھوڑا کیوں کہ اندیشہ تھا کہ اسرائیلی وزیر اعظم کی جانب سے کسی بھی اشتعال انگیز بات پر سادات طیش میں آ جاتے۔ اسوان میں 10 روز قیام کے دوران جہان خود اپنے شوہر کے کھانے پینے اور کپڑوں کا خیال رکھتی تھیں۔

اکتوبر 1973ء کی جنگ کے دوران میں خاتون اول خود ہسپتالوں میں زخمیوں سے ملاقات کے لیے جایا کرتی تھیں۔ اس پر جہان کو "أم الأبطال" (دلیروں کی ماں) کا خطاب دیا گیا۔

ابو بکر کے مطابق جہان سادات بچوں اور خواتین کی خدمت کے لیے خیراتی اداروں کے قیام پر اصرار کرتی تھیں۔ مزید یہ کہ جنگ میں زخمی ہونے والوں کو اپنے بیٹے شمار کرتی تھیں۔

جہان نے یورپ کے بھی کئی سفر کیے تا کہ یہ جانا جا سکے کہ یورپی ممالک جنگ کے زخمیوں کے ساتھ کس طرح کا تعامل رکھتے ہیں۔