.

افغانستان میں طالبان چین کی سرحد تک پہنچ گئے

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

افغانستان کے ایک تہائی حصے پر کنٹرول حاصل کرنے کے بعد رواں ہفتے طالبان تحریک کے عناصر شمال مشرقی صوبے بدخشاں تک پہنچ گئے ہیں۔ یہ پہاڑی علاقہ چین کے صوبے شنکیانگ کے ساتھ سرحد پر واقع ہے۔ یہ بات امریکی اخبار وال اسٹریٹ جرنل نے بتائی ہے۔

شنکیانگ صوبے میں القاعدہ تنظیم سے مربوط مسلح اویغور جماعتوں کے ساتھ طالبان کے تاریخی تعلقات کے پیش نظر حالیہ پیش رفت ماضی میں بیجنگ کے لیے باعث تشویش ہو سکتی تھی۔ تاہم ان اب افغان طالبان چین کے اندیشوں کو اطمینان میں بدلنے کی پوری کوشش کر رہے ہیں۔

بیجنگ کی ایک یونیورسٹی میں نیشنل اسٹریٹجک انسٹی ٹیوٹ کے شعبہ تحقیق کے سربراہ چیان ونگ کے مطابق "افغان طالبان چین کے لیے حُسنِ نیت کا اظہار چاہتے ہیں۔ طالبان امید رکھتے ہیں کہ بالخصوص امریکی افواج کے انخلا کے بعد چین زیادہ اہم کردار ادا کرے گا"۔

طالبان تحریک اس وقت دو مواقف میں اچھا توازن یقینی بنانے کے لیے کوشاں ہے۔ ایک طرف عالمی اسلامی معاملات کی پاسداری ہے اور دوسری طرف بیجنگ کو قائل کرنا ہے کہ کابل میں طالبان حکومت چین کے استحکام کے لیے خطرہ نہیں بنے گی۔

طالبان تحریک کے ایک اعلی ذمے دار کا کہنا ہے کہ "ہمیں مسلمانوں پر جبر کے معاملے میں دل چسپی ہے اور ہم اس پر توجہ دیتے ہیں خواہ فلسطین ہو ، میانمار ہو یا پھر چین ... ہم دنیا میں کسی بھی جگہ غیر مسلموں پر جبر کے لیے بھی فکر رکھتے ہیں، البتہ ہم چین کے اندرونی معاملات میں مداخلت ہر گز نہیں کریں گے"۔

افغان طالبان کے اویغور کے مسلح عناصر کے ساتھ تعلقات اُس زمانے سے ہیں جب اسامہ بن لادن افغانستان میں سکونت پذیر تھے۔

متعدد ایوغور جنگجو حالیہ برسوں میں شام منتقل ہوئے۔ اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی ایک رپورٹ میں اندازہ لگایا گیا ہے کہ اویغور کے تقریبا 500 مسلح ارکان ابھی تک افغانستان میں ہیں۔

چین نے شدت پسند جماعتوں مثلا ترکستانی اسلامک پارٹی جیسی تنظیموں کی موجودگی کو شنکیانگ صوبے میں اپنے کریک ڈاؤن کا جواز بنایا۔ اس دوران میں دس لاکھ سے زیادہ مسلمانوں کو پیشہ وارانہ تربیت کے کیمپوں کے نام سے معروف مقامات پر قید میں رکھا گیا۔

بدخشاں کے صدر مقام کے سوا صوبے کے بقیہ تمام علاقے اس وقت افغان طالبان کے کنٹرول میں ہیں۔ حالیہ دنوں میں 1000 سے زیادہ افغان سرکاری فوجی فرار ہو کر سرحد پار تاجکستان میں داخل ہو گئے۔

اگرچہ بیجنگ کابل میں افغان صدر اشرف غنی کی حکومت کو سپورٹ کرتا ہے۔ اس نے متعدد بار طالبان کے وفود کا استقبال بھی کیا۔ رواں سال چین نے افغانوں کے درمیان امن بات چیت کی میزبانی کی پیش کش بھی کی تھی۔

چین کی ریاستی سلامتی کی وزارت کے زیر انتظام ایک تحقیقی مرکز کے محقق لی وی ے کے مطابق طالبان کا خیال ہے کہ وہ ایک بار پھر معاملات کی باگ ڈور سنبھال سکتے ہیں۔ لہذا وہ پڑوسی ممالک کے ساتھ زیادہ دوستانہ تعلقات کے خواہش مند ہیں۔ مزید یہ کہ طالبان افغانستان کو بین الاقوامی دہشت گردی کے لیے زرخیز سرزمین کے طور پر دیکھنے کے خواہاں نہیں۔

دوسری جانب سنگاپور میں نینیانگ یونیورسٹی آف ٹکنالوجی میں بین الاقوامی دہشت گردی کے ماہر روہان جوناراتنا کا کہنا ہے کہ اس بات کی توقع ہے کہ طالبان تحریک ایک بار پھر اویغور جنگجوؤں کی حمایت شروع کر دے گی بالخصوص جب کہ ان میں بہت سے جنگجو شام سے افغانستان واپس آنا چاہتے ہیں۔ طالبان کے نظریات میں کوئی بڑی تبدیلی نہیں آئی ہے۔