.

امریکا کی افغانستان میں جنگ کا علامتی خاتمہ؛جنرل آسٹن مِلرفوج کی کمان سے سبکدوش

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

افغانستان میں امریکی فوج کے کمانڈر جنرل آسٹن اسکاٹ مِلرآج سے باضابطہ طور پر اپنے عہدے سے سبکدوش ہورہے ہیں۔اس طرح افغانستان میں امریکا کی جنگ کا 31 اگست کی مقررہ تاریخ سے قبل علامتی طور پرخاتمہ ہوگیا ہے جبکہ طالبان نے ملک کے مختلف محاذوں پر پیش قدمی جاری رکھی ہوئی ہے۔

جنرل ملر افغانستان میں جنگ میں امریکی فوج کی قیادت کرنے والے آخری چارستارہ جنرل ہیں۔عارضی طور پران کی جگہ لینے کے لیے امریکی میرین جنرل کینتھ میکنزی کابل پہنچے ہیں۔انھوں نے اپنی آمد کے بعد صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے خبردار کیا ہے کہ طالبان اب بحران کو جنگ کے ذریعے ختم کرنے کی کوشش کررہے ہیں جبکہ امریکا نے طالبان اور صدر اشرف غنی کی حکومت کے درمیان پُرامن طریقے سے تنازع کو حل کرنے کی کوشش کی ہے۔

انھوں نے طالبان کی افغانستان کے مختلف علاقوں میں پیش قدمی کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ ’’اس وقت صوبائی دارالحکومت خطرے سے دوچار ہیں لیکن انھوں نے دعویٰ کیا ہے کہ امریکا کی حمایت یافتہ افغان سکیورٹی فورسز ان صوبائی دارالحکومتوں کے دفاع کی سخت جنگ لڑنے کے لیے پُرعزم ہیں۔‘‘

جنرل ملر کے سبکدوش ہونے کے بعد جنرل میکنزی 31 اگست تک صدر اشرف غنی کی حکومت کی حمایت میں طالبان کے خلاف فضائی حملوں کا حکم دینے کے مجاز ہوں گے۔تاہم انھوں نے واضح کیا ہے کہ افغانستان میں ان کی توجہ القاعدہ اورداعش کے خلاف انسداد دہشت گردی کی کارروائیوں پر مرکوزہوگی۔ بہ الفاظ دیگر وہ ان گروپوں کے خلاف فضائی حملوں کا حکم دے سکتے ہیں۔

طویل عرصہ فوجی کمان

واضح رہے کہ 60 سالہ جنرل آسٹن اسکاٹ مِلر نے افغانستان میں اپنے پیش رو کسی بھی امریکی جنرل سے زیادہ عرصہ جنگ کی کمان کی ہے۔ان پر افغانستان کے جنوبی صوبہ قندھار میں 2018ء میں ایک جعلی افغان محافظ نے فائرنگ کردی تھی ۔وہ اس قاتلانہ حملے میں بال بال بچ گئے تھے لیکن ان کے ساتھ کھڑے افغان پولیس کے سربراہ ہلاک ہوگئے تھے اور ایک امریکی بریگیڈئیر جنرل زخمی ہوگئے تھے۔

جنرل ملر کے بعد پینٹاگان نے عبوری دور کے لیے افغان سکیورٹی فورسز کی معاونت جاری رکھنے کے لیے ایک نیا نظام وضع کیاہے۔اس کے تحت بیرون ملک سے امریکی جرنیل افغان سکیورٹی فورسز کی معاونت کی نگرانی کریں گے۔جنرل میکنزی تو امریکا کی مرکزی کمان کے فلوریڈا میں واقع مرکز سے فرائض انجام دیں گے اور قطر میں امریکی فوجی اڈے پر تعینات بریگیڈیئر جنرل کرٹس بزارڈ افغان سکیورٹی فورسز کی مالی معاونت اورطیاروں کی مرمت کی نگرانی کریں گے۔

کابل میں بحریہ کے ریئرایڈمرل پیٹر ویسلے حال ہی میں تشکیل دی گئی ’امریکی فورسز افغانستان فارورڈ‘ کی قیادت کریں گے۔ یہ فورس کابل میں امریکی سفارت خانے اور ہوائی اڈے کے تحفظ کی ذمے دار ہوگی۔

امریکی صدرجوبائیڈن نے گذشتہ جمعرات کو ایک نشری تقریر میں 31 اگست کو افغانستان میں امریکا کے فوجی مشن کے خاتمے کا اعلان کیا تھا۔ان کا کہنا تھا کہ ’’ہم افغانستان میں قوم کی تعمیر کےلیے نہیں گئے تھے۔اب افغان لیڈروں کو مل بیٹھنا ہوگا اور وہ باہم مل کر مستقبل کی جانب بڑھیں۔‘‘

انھوں نے افغانستان میں امریکا کے فوجی مشن میں توسیع کے مطالبے کو مسترد کردیا اور ایسی آوازیں بلند کرنے والوں کو مخاطب ہوکر کہا تھاکہ ’’آپ اور کتنے ہزار امریکی بیٹیوں اور بیٹوں کو خطرے سے دوچار کریں گے۔میں امریکیوں کی ایک اورنسل کو جنگ کے لیے افغانستان میں نہیں بھیجوں گا جبکہ کسی مختلف نتیجہ کے حاصل ہونے کی کوئی معقول توقع بھی نہیں ہے۔‘‘

جوبائیڈن نے اس تقریر میں افغانستان سے امریکی فوج کے انخلا سے متعلق اپنے فیصلے پر روشنی ڈالی تھی اور اس فیصلے کا حالیہ ہفتوں کے دوران میں جنگ زدہ ملک کے مختلف علاقوں میں طالبان کی تیزرفتارجنگی پیش قدمی کے باوجود دفاع کیاتھا۔