.

ترکی اور اسرائیل کے صدور میں طویل عرصے کے بعد ٹیلی فون پر بات چیت

اختلاف رائے کے باوجود دونوں ملکوں کے درمیان مکالمے کا سلسلہ جاری رہنا چاہیے: طیب ایردوآن

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

ترک صدر رجب طیب ایردوآن نے نئے اسرائیلی ہم منصب اسحاق ہرتصوغ سے ٹیلی فون پر بات چیت کی ہے۔دونوں ملکوں کے صدور کے درمیان ایک طویل عرصے کے بعد یہ پہلا ٹیلی فونک رابطہ ہے۔

ترک ایوان صدر کے مطابق طیب ایردوآن نے اسحاق ہرتصوغ سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ’’مشرق اوسط میں سلامتی اوراستحکام کے لیے ترکی اوراسرائیل کے درمیان تعلقات بڑی اہمیت کے حامل ہیں۔‘‘

انھوں نے ترکی کے اس مؤقف کا اعادہ کیا کہ ’’اختلاف رائے کے باوجود دونوں ملکوں کے درمیان مکالمے کا سلسلہ جاری رہنا چاہیے۔‘‘

ترک صدر نے کہا کہ عالمی برادری اسرائیلی، فلسطینی تنازع کا اقوام متحدہ کی قراردادوں کے مطابق مستقل اور جامع دوریاستی حل چاہتی ہے۔ان کا کہنا تھا کہ ترکی اور اسرائیل کے درمیان توانائی ، سیاحت اور ٹیکنالوجی سمیت مختلف شعبوں میں دوطرفہ تعاون بڑھانے کے مواقع موجود ہیں۔

ترکی اور اسرائیل کے درمیان گذشتہ ایک عشرے سے تعلقات تناؤ کا شکارچلے آرہے ہیں اوران کے درمیان آزادانہ روابط منقطع ہیں۔صدررجب طیب ایردوآن فلسطینیوں کے مؤید وحامی ہیں۔انھوں نے گذشتہ ہفتے کے روز فلسطینی صدرمحمودعباس سے ملاقات کی تھی اور ان سے گفتگو کرتے ہوئے کہا تھا کہ ترکی اسرائیل کی فلسطینیوں کے خلاف جبرواستبداد کی کارروائیوں پر خاموش نہیں رہے گا۔

انھوں نے اسرائیل کی مئی میں غزہ کی پٹی پر مسلط کردہ جنگ کی مذمت کی تھی اور اس پر فلسطینیوں کے خلاف ریاستی دہشت گردی کے استعمال کا الزام عاید کیا تھا۔انھوں نے اس عزم کا اظہار کیا تھا کہ وہ فلسطینی علاقوں کے دفاع کے لیے دنیا کی حمایت حاصل کرنے کی کوشش کریں گے۔

واضح رہے کہ ترکی اور اسرائیل کے درمیان 2010ء سے تعلقات کشیدہ چلے آرہے ہیں۔تب ترکی کی ایک غیرسرکاری تنظیم (این جی او) نے امدادی بحری جہازوں پر مشتمل ایک فلوٹیلا اسرائیلی محاصرے کا شکار غزہ کی پٹی میں لے جانے کی کوشش کی تھی لیکن اسرائیلی بحریہ کے کمانڈوز نے ان جہازوں پرقبضہ کرلیا تھا اور مختلف ملکوں سے تعلق رکھنے والے امدادی کارکنان کو گرفتار کر لیا تھا۔اس واقعہ ترکی نے سخت احتجاج کیا تھا اور اسرائیل سے اپنے سفیر کو واپس بلا کیا تھا۔