.

جوہری سمجھوتاکی بحالی؛امریکاپاسداران ،خامنہ ای اوررئیسی پرپابندیاں ختم کرے: ایران

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

ایران نے امریکا سے جوہری سمجھوتے کی بحالی کے لیے بڑا مطالبہ کردیا ہے اور کہا ہے کہ اگروہ 2015ء میں طے شدہ جوہری سمجھوتے کو بحال کرنا چاہتا ہے تو اس سے پہلے سپاہ پاسداران انقلاب ایران کا نام دہشت گرد تنظیموں کی فہرست سے خارج کرے، رہبرِاعلیٰ آیت اللہ علی خامنہ ای اور نومنتخب صدر ابراہیم رئیسی کے خلاف عاید کردہ پابندیوں کو ختم کرے۔

ایران کی وزارت خارجہ نے منگل کے روز پارلیمان میں اپنی کارکردگی سے متعلق سہ ماہی رپورٹ پیش کی ہے۔اس میں اس نے کہا ہے کہ اگرویانا میں ایران اور امریکا کے درمیان جاری بالواسطہ بات چیت کامیاب ہوجاتی ہے اورجوہری ڈیل کی بحالی کے لیے کوئی سمجھوتا طے پاجاتا ہے تو امریکا سپاہ پاسداران انقلاب کو غیرملکی دہشت گرد تنظیم قراردینے کا فیصلہ منسوخ کردے گا۔

اس کے علاوہ امریکا انتظامی حکم نمبر 13876 کو بھی منسوخ کردے گا۔اس کے تحت امریکا کی سابق ٹرمپ انتظامیہ نے سپریم لیڈرآیت اللہ علی خامنہ ای ،ان کے دفتر اور ان کے مقرر کردہ ایرانی عہدے داروں پر پابندیاں عاید کردی تھیں۔ان میں نومنتخب صدر ابراہیم رئیسی بھی شامل ہیں۔وہ 5 اگست کو اپنے عہدے کا حلف اٹھائیں گے۔امریکا کے سابق صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے 2019ء میں ان کے خلاف انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں میں ملوّث ہونے کے الزام میں پابندی عاید کی تھی۔

امریکا اور ایران کے درمیان ویانا میں یورپی ملکوں کی ثالثی میں اپریل سے بات چیت ہورہی ہیں لیکن ان کے درمیان جوہری سمجھوتے کی بحالی سے متعلق ابھی تک کوئی تصفیہ طے نہیں پایا ہے۔دونوں ملکوں کے مذاکرات کاروں کے درمیان بات چیت کا چھٹا دور 20 جون کو ختم ہوا تھا لیکن ابھی انھوں نے مذاکرات کے نئے دور کے لیے کوئی تاریخ مقرر نہیں کی ہے۔

امریکی محکمہ خارجہ کے ترجمان نیڈ پرائس نے سوموار کو ایک بیان میں کہا تھا کہ واشنگٹن مذاکرات کے ساتویں دو کے آغاز کے لیے کوئی ڈیڈلائن مقرر نہیں کرے گا کیونکہ اب ایران ہی یہ تعیّن کرسکتا ہے کہ مذاکرات کا نیا دور کب شروع ہونا چاہیے۔

ایرانی وزارت خارجہ نے سوموار کو اس رپورٹ کو اپنی ویب سائٹ پر شائع کیا تھا۔اس کے مطابق اگر ویانا میں جوہری سمجھوتے کی بحالی کے لیے کوئی ڈیل طے پاجاتی ہے تو امریکا ایران کے ایک ہزار سے زیادہ افراد اور اداروں پرعاید پابندیاں بھی ختم کردے گا۔

ان میں ایران کے ایک کے سوا تمام بنک اور مالیاتی ادارے،انشورنس کمپنیاں ،ایران کی تیل اور پیٹروکیمیکل کی تمام کمپنیاں،ریفائنریاں ، جوہری توانائی تنظیم اور اس سے وابستہ کمپنیاں اور تحقیقاتی ادارے شامل ہیں۔امریکا نے ان تمام کمپنیوں اور اداروں پر مختلف النوع پابندیاں عاید کررکھی ہیں۔

ان پابندیوں کے خاتمے کی صورت میں ایران جوہری سمجھوتے کی پاسداری کرےگا لیکن اس کی بھی اس نے یہ شرط عاید کی ہے کہ وہ پہلے امریکا کی مذکورہ بالا شخصیات اوراداروں پرعاید پابندیاں ہٹانے کے اقدام کی تصدیق کرے گا۔امریکا نےایرانی وزارتِ خارجہ کی اس رپورٹ پر فوری طور پر کوئی تبصرہ نہیں کیا ہے۔