.

لبنان کی بعض جماعتوں پر پابندیوں کے لیے یورپی یونین میں اتفاق

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

فرانسیسی وزیر خارجہ ژاں ایف لی ڈریان نے کل سوموار کو اس بات کی تصدیق کی ہے کہ اس ماہ کے آخر سے پہلے لبنان کی بعض جماعتوں کے خلاف پابندیاں عاید کرنے پر یورپی یونین کے ممالک کے درمیان اتفاق رائے ہوچکا ہے۔

لی ڈریان نے برسلز میں یورپی یونین کے وزرائے خارجہ کے اجلاس کے بعد کہا کہ ہم نے طویل عرصے سے لبنانی حکام سے حکومت تشکیل دینے اور اصلاحات شروع کرنے کا مطالبہ کیا ہے لیکن انہوں نے کوئی رد عمل ظاہر نہیں کیا۔

انہوں نے مزید کہا کہ پابندیاں عاید کرنے کے لیے ایک قانونی فریم ورک طے کرنے کی خاطر ہم ایک سیاسی معاہدے پر پہنچ گئے ہیں۔ یہ قانونی ڈھانچہ چار اگست کو بیروت بندرگاہ پر ہونے والے دھماکوں کی پہلی برسی سے پہلے ہی تیار ہو جائے گا۔

لی ڈریان نے وضاحت کی کہ یہ پابندیاں حکومت تشکیل دینے اور اصلاحات کا عمل شروع کرنے کےلیے لبنانی حکام پر دباؤ کا ایک ذریعہ ہیں۔

اس تناظر میں برسلز میں العربیہ اور الحدث چینلز کے نمائندے نےلبنانی جماعتوں کے خلاف پابندیوں کے لیے قانونی ڈھانچہ متعین کرنے کے بارے میں یورپی ممالک کے سیاسی اتفاق رائے تصدیق کی ہے۔

پیر کو برسلز میں یورپی یونین کے وزرائے خارجہ کے اجلاس میں لبنانی معاشی اور سیاسی بحران پر بھی بات چیت کی گئی۔

برسلز میں العربیہ کے نامہ نگار اس اجلاس سے قبل تصدیق کی تھی کہ لبنان کے آپشن پیپر میں لبنانی جماعتوں کے خلاف پابندیاں بھی شامل ہیں۔

ایک سینیر سفارتکار نے ہمارے نامہ نگار کو بتایا کہ لبنان کی صورتحال مزید مخدوش ہونے کا خطرہ ہے۔ اس سفارت کار نے ایسے سیاست دانوں پر پابندیاں عاید کرنے کو مسترد نہیں کیا جو لبنانی حکومت بنانے کی کوششوں میں رکاوٹ ہیں۔ اس صورت میں کہ اس معاملے پر یورپی اجلاس کے اندر عمومی اتفاق رائے پایا جاتا ہے

یورپی یونین کی خارجہ پالیسی کے کمشنر جوزپ بوریل نے العربیہ کو بتایا کہ مُجھے آج لبنان پر پابندیوں کے بارے میں کسی سیاسی معاہدے کی توقع نہیں ہےکہ لیکن انتباہ کیا کہ لبنان کے حالیہ دورے کے بعد وہاں کی صورتحال اب تک کوئی بہتری دیکھنے میں نہیں آئی ہے۔