.

افغانستان میں طالبان کی پیش قدمی؛تاجکستان میں روس کی فوجی مشقیں

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

افغانستان میں مختلف محاذوں پر طالبان کی پیش قدمی جاری ہے جبکہ پڑوسی ملک تاجکستان میں روس نے بدھ کو فوجی مشقیں شروع کردی ہیں۔

افغانستان سے امریکا کی قیادت میں غیرملکی فوجیوں کا انخلا جاری ہے،اس دوران میں طالبان نے افغان سکیورٹی فورسز کے خلاف اپنی کارروائیاں جاری رکھی ہوئی ہیں اور انھوں نے حالیہ ہفتوں میں ملک کے بہت سے علاقوں پر کنٹرول حاصل کر لیا ہے۔طالبان نے افغانستان اور تاجکستان کے درمیان واقع شیرخان بندر بارڈر کراسنگ پر بھی قبضہ کر لیا ہے۔

کریملن کا کہنا ہے کہ وہ افغانستان میں طالبان کی پیش قدمی سے پیدا ہونے والی صورت حال پرنظررکھے ہوئے ہے اور اس کو افغانستان کے ہمسائے میں واقع سابق سوویت ریاستوں کی سکیورٹی سے متعلق تشویش لاحق ہے جہاں روس کے بہت سے فوجی اڈے قائم ہیں۔

روس کی خبررساں ایجنسی انٹرفیکس کے مطابق تاجکستان کے دارالحکومت دوشنبے میں روس کے ایک فوجی اڈے پر تعینات قریباً ایک ہزار فوجی مشقوں میں حصہ لے رہے ہیں۔دوشنبے میں روس کا 201واں فوجی اڈا قائم ہے۔

ایجنسی نے روس کے سنٹرل ملٹری ڈسٹرکٹ کا ایک بیان نقل کیا ہے جس میں اس نے کہا ہے کہ ان مشقوں کو یونٹ کمانڈروں اور لڑاکا دستوں کے کمانڈروں کے لیے ترتیب دیا گیا ہے تاکہ تیزی سے تبدیل ہوتی ہوئی صورت حال میں حربی کارروائیوں کی تیاری کا جائزہ لیا جاسکے۔

روسی فوج کی یہ مشقیں اختتام ہفتہ تک جاری رہیں گے۔ان میں کسی ممکنہ میزائل حملے سے دفاع کے لیے بھی فوجی یونٹوں کی جوابی تیاریوں کی جانچ کی جارہی ہے۔ایک مشق میں روسی فوجیوں نے جعلی دشمن کے ایک بڑے میزائل حملے کو ناکارہ بنایا ہے۔

واضح رہے کہ روس کا یہ 201واں فوجی اڈا بیرون ملک سب سے اہم بیس سمجھاجاتا ہے۔اس کا مقصد وسط ایشیا میں استحکام کو برقرار رکھنے میں مدد دینا ہے اور تاجک فوجیوں کو معاونت مہیّا کرنا ہے۔روس نے یہ اڈا 2005ء میں قائم کیا تھا اور یہ تین مختلف تنصیبات پر مشتمل ہے۔یہاں قریباً 55 سو روسی فوجی تعینات ہیں۔

تاجکستان نے 2012ء میں روس کو 2042ء تک اس فوجی اڈے کو برقرار رکھنے کی اجازت دے دی تھی تاکہ وہ اس کی افغانستان کے ساتھ واقع سرحد کےتحفظ میں مدددے سکے۔

تاجکستان سابق سوویت یونین میں شامل تھا۔ اب وہ ماسکو کی قیادت میں اجتماعی سکیورٹی ٹریٹی آرگنائزیشن (سی ایس ٹی او) اور شنگھائی تعاون تنظیم (ایس سی او) میں شامل ہے۔

واضح رہے کہ جولائی کے اوائل میں جب طالبان نے شیرخان بندربارڈر کراسنگ پر قبضہ کیا تھا تو ایک ہزار سے زیادہ افغان فوجی بھاگ کر تاجکستان چلے گئے تھے۔انھیں گذشتہ ہفتے بذریعہ طیارہ افغانستان میں واپس لایاگیا تھا۔